اسلام آباد دھماکہ: مبینہ خودکش حملہ آور کے اہلِ خانہ گرفتار

0
28
اسلام آباد دھماکہ: مبینہ خودکش حملہ آور کے اہلِ خانہ گرفتار

اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے تناظر میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پشاور نے مبینہ خودکش حملہ آور کے گھر پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور یاسر کے پشاور میں واقع گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے اس کے دو بھائی بلال اور ناصر، بہنوئی عثمان اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں شواہد ملے ہیں کہ یاسر واقعے سے قبل اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔
حکام کے مطابق یاسر کے خاندان میں دو بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں، جبکہ زیرِ حراست افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یاسر گزشتہ برس مئی میں افغانستان گیا تھا اور جون میں پاکستان واپس آیا۔ واپسی کے بعد وہ ضلع باجوڑ گیا جہاں اس نے ایک سم کارڈ فعال کروایا اور 27 جون سے اکتوبر تک وہیں قیام کیا۔ بعد ازاں وہ حکیم آباد، نوشہرہ منتقل ہو گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق شواہد سے پتا چلتا ہے کہ مبینہ حملہ آور نے دو فروری کو واقعے سے قبل جائے وقوعہ کی ریکی بھی کی تھی، جس سے حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی ظاہر ہوتی ہے۔
ادھر اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ایک مسجد کے قریب خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس میں 32 افراد جاں بحق جبکہ 169 زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کو مسجد کے گیٹ پر روکا گیا تھا، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور کا تعلق کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

Leave a reply