اسرائیل نے مصری ٹیم کو غزہ میں یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی اجازت دے دی

0
103
اسرائیل نے مصری ٹیم کو غزہ میں یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی اجازت دے دی

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ مصر کی ایک ٹیم کو غزہ کی پٹی میں داخل ہو کر مبینہ طور پر ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس کارروائی میں بین الاقوامی ریڈ کراس کے اہلکار بھی شریک ہوں گے، جو غزہ کے اندر ییلو لائن کے پار تلاش کے کام انجام دیں گے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ اس عمل کے دوران اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنا مکمل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا اور بین الاقوامی ٹیموں کی سرگرمیوں پر اس کی فوجی دسترس اور نگرانی جاری رہے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ اس نگرانی کا مقصد عملے کی حفاظت اور علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔

اس بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نے واضح کیا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ اور وہاں کے سکیورٹی اور مستقبل کے انتظامات سے متعلق اختیار اسرائیل کے پاس ہی رہے گا۔ ان کے بقول کسی بھی بین الاقوامی اقدام پر حتمی اختیارات اسرائیلی قیادت ہی طے کرے گی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری اور ریڈ کراس کی ٹیمیں آئندہ چند روز میں غزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں میں تلاش کا عمل شروع کریں گی، جہاں متعدد یرغمالیوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تلاش کے دوران علاقے کی صورتِ حال اور سکیورٹی صورتحال کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس صورتِ حال میں بین الاقوامی انسانی حقوق اور امدادی ادارے ممکنہ طور پر ہلاک شدگان کی شناخت، ان کے خاندانوں تک اطلاع رسانی اور انسانی سروسز کی فراہمی میں مدد کریں گے، تاہم طے شدہ حفاظتی ضوابط اور علاقائی کنٹرول متعلقہ حکام کی نگرانی میں نافذ رہیں گے۔

اس پیش رفت کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دلچسپی بڑھے گی کہ یہ مرحلہ کس حد تک شفاف اور مؤثر طریقے سے مکمل ہوتا ہے، اور آیا اس سے علاقے میں قیدیوں اور یرغمالیوں کے مستقبل کے حوالے سے مزید پیش رفت ممکن ہو سکے گی یا نہیں۔

Leave a reply