اسرائیل نے غزہ کے لیے امریکی ایگزیکٹو بورڈ پر تحفظات کا اظہار کیا

اسرائیل نے امریکا کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے ایگزیکٹو بورڈ پر اعتراض کیا ہے اور اسے اپنی سرکاری پالیسی کے خلاف قرار دیا ہے۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر اسرائیل سے پیشگی مشاورت نہیں کی گئی اور یہ فیصلہ اسرائیلی موقف کے مطابق نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کریں گے تاکہ اسرائیل کی تشویشات سے انہیں آگاہ کیا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق اس بورڈ میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان بھی شامل ہیں، جس پر اسرائیل نے پہلے بھی غزہ کے معاملات میں ترکی کے کردار کی مخالفت کی ہے۔ بورڈ میں مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر، ایک اسرائیلی نژاد قبرصی ارب پتی، اور متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر بھی شامل ہیں۔ یو اے ای نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
اسی دوران واشنگٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ستمبر میں پیش کیے گئے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس مرحلے میں غزہ میں عبوری ٹیکنوکریٹ فلسطینی انتظامیہ قائم کرنے کی تجویز شامل ہے تاکہ علاقے میں عارضی نظم و نسق برقرار رکھا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ میں مارکو روبیو، ارب پتی کاروباری شخصیت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے کہا کہ بورڈ کی موجودہ ترکیب ان کے قومی مفادات اور پالیسی کے مطابق نہیں ہے، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل ابھی تک نہیں آیا۔









