
کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے پر وکلا نے بدھ کے روز سٹی کورٹ میں ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر وڑائچ کا کہنا ہے کہ جب تک وکلا کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔
صدر کراچی بار نے بتایا کہ بدھ کو پولیس اہلکاروں کو سٹی کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ وکلا نے کل صبح 11 بجے سٹی کورٹ میں ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
عامر وڑائچ کا کہنا تھا کہ انہیں آج معلوم ہوا کہ وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ وکلا کی جانب سے دی گئی درخواست پر تاحال کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
وکلا نے سٹی کورٹ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر احتجاج بھی کیا، جس کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل سٹی کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے معاملے میں 15 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے تھانہ سٹی کورٹ میں درج کروایا، جس میں تشدد، مارپیٹ، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں کئی افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، واقعے کے دوران رجب بٹ کے تین لاکھ روپے بھی غائب ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یوٹیوبر رجب بٹ اپنی عبوری ضمانت کی سماعت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے، جہاں ان کے ساتھ ایک اور یوٹیوبر بھی موجود تھا۔ وکلا کا مؤقف ہے کہ رجب بٹ نے اپنی گزشتہ پیشی کے بعد ایک وی لاگ میں وکلا کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی تھی۔
وکلا نے مطالبہ کیا ہے کہ رجب بٹ، ان کے وکیل اور ایک دیگر یوٹیوبر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔









