گھریلو علاج یا محض عارضی سکون؟ اجوائن کے تیل پر ماہرین کی رائے

0
183
گھریلو علاج یا محض عارضی سکون؟ اجوائن کے تیل پر ماہرین کی رائے

سردیوں کے موسم میں نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکایات عام ہو جاتی ہیں، ایسے میں بہت سے لوگ گھریلو علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں جن میں اجوائن کے تیل کا استعمال بھی شامل ہے۔ یہ طریقہ علاج برصغیر میں نسلوں سے رائج ہے، مگر یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا اجوائن کا تیل واقعی زکام کی علامات سے فوری اور مؤثر آرام فراہم کرتا ہے یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق اجوائن کے بیج اور اس سے حاصل ہونے والا تیل صدیوں سے مختلف گھریلو علاجوں میں استعمال ہو رہا ہے، جن میں اجوائن کا قہوہ، اجوائن ملا پانی اور بھنی ہوئی اجوائن شامل ہیں۔ ان تمام طریقوں کا بنیادی مقصد جسم میں گرمائش پیدا کرنا اور علامات کی شدت کو کم کرنا ہوتا ہے، تاہم یہ علاج نزلہ یا زکام کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے بلکہ عارضی سکون فراہم کرتے ہیں۔

اجوائن کے تیل میں تھائمل نامی ایک اہم مرکب پایا جاتا ہے جو جراثیم کش، اینٹی سوزش اور خوشبودار خصوصیات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کھانسی، گلے کی خراش، سینے کی جکڑن اور سانس کی تکالیف میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تھائمل ہوا کی نالیوں کو کھولنے میں مدد دیتا ہے اور سانس لینے میں آسانی پیدا کر سکتا ہے، مگر طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فوری یا مکمل علاج نہیں بلکہ صرف علامات میں عارضی کمی کا سبب بنتا ہے۔

نزلہ زکام کے دوران کئی افراد کو بدہضمی، اپھارے اور معدے کے بھاری پن کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اجوائن کا تیل یا بیج ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے مجموعی کیفیت میں کچھ بہتری محسوس ہو سکتی ہے۔ آیورویدک تحقیق کے مطابق اجوائن معدے کی تیزابیت کم کرنے اور بدہضمی میں فائدہ دیتی ہے، تاہم یہ فائدہ بھی بالواسطہ نوعیت کا ہوتا ہے۔

اجوائن کو گرم اثر رکھنے والی غذا تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے سردیوں میں اس کا استعمال عام ہے۔ اس سے گلے اور سینے میں وقتی سکون مل سکتا ہے، لیکن ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسے زکام کا مستقل یا فوری علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح اجوائن کے بیجوں میں موجود جراثیم کش خصوصیات قوتِ مدافعت کو سہارا دے سکتی ہیں اور انفیکشن سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، مگر اس کے اثرات وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زکام کے دوران اجوائن کے بیجوں کی بھاپ لینا، اجوائن کے تیل کے استعمال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ گرم بھاپ بلغم کو نرم کرتی ہے جبکہ اجوائن کی خوشبو سانس لینے میں آسانی پیدا کرتی ہے، اسی لیے یہ طریقہ گھریلو سطح پر زیادہ مقبول سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اجوائن کے تیل میں فعال مرکبات زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں، اس لیے اس کا استعمال بہت محدود اور احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔ زیادہ مقدار جلد میں جلن یا معدے کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ گھریلو علاج میں عموماً اجوائن کے بیج استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ خالص تیل۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد اجوائن کے تیل کا استعمال کرنا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ پہلے کسی مستند طبی ماہر یا معالج سے مشورہ کرے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ مجموعی طور پر اجوائن کا تیل یا بیج زکام کی علامات میں وقتی آرام تو دے سکتے ہیں، مگر انہیں مکمل علاج سمجھنا درست نہیں۔

Leave a reply