گل پلازہ کی آگ: ایک المیہ، ایک انتباہ

کراچی کے دل میں واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے نہ صرف ایک تجارتی مرکز کو راکھ میں بدل دیا بلکہ انسانی جانوں اور معاشرتی نظام کی خامیوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔ 36 گھنٹے کی شدید جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، مگر اس دوران عمارت کے دو بڑے حصے منہدم ہو گئے، ایک فائر فائٹر سمیت 26 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 81 لوگ تاحال لاپتا ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے کہ ہمارے شہروں میں شہری زندگی اور تجارتی مراکز کے تحفظ کے لیے موجود نظام کس قدر ناکافی ہے۔ گل پلازہ میں روزانہ ہزاروں افراد کام کرتے اور کاروبار کرتے تھے۔ یہاں چھوٹے تاجروں کی محنت، نوجوانوں کے خواب اور خاندانوں کی جمع پونجی ایک لمحے میں راکھ بن گئی۔
36 گھنٹے تک آگ پر قابو پانے کی کوشش میں ریسکیو ٹیمیں اپنی بھرپور کوشش کرتی رہیں، مگر پرانی مشینری، محدود وسائل، ناکافی تربیت اور ناقص منصوبہ بندی نے نقصان کو بڑھا دیا۔ عمارت کی ناقص تعمیر اور حفاظتی اقدامات کی کمی نے ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ بنایا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شارٹ سرکٹ آگ لگنے کی وجہ بنی، مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شارٹ سرکٹ محض ایک قدرتی حادثہ ہے یا ناقص وائرنگ، غیر معیاری برقی آلات اور غیر قانونی کنکشنز کا نتیجہ؟ بیشتر شاپنگ مالز میں بجلی کے نظام کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا، اور حفاظتی انتظامات عملی طور پر ناکارہ ہیں۔
مزید برآں، فائر سیفٹی قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایمرجنسی ایگزٹس، فائر الارم، اسپرنکلرز اور فائر فائٹنگ آلات یا تو موجود نہیں یا استعمال کے قابل نہیں ہیں۔ دکانوں میں سامان کے بھرے ہونے کی وجہ سے راستے تنگ ہو گئے اور ایمرجنسی سے نکلنا مشکل ہو گیا۔
یہ غفلت نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ تاجر برادری اور شاپنگ مال کی انتظامیہ کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اکثر تجار فائر سیفٹی اقدامات کو اضافی خرچ یا غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ المیہ بن کر سامنے آیا۔
گل پلازہ میں دکانیں نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر سپلائی کا حصہ تھیں۔ ان کے جل جانے سے نہ صرف سرمایہ اور روزگار ضائع ہوا بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اثر پڑا۔ قرض، ادھار اور آئندہ آرڈرز سب غیر یقینی ہو گئے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا اور کاروباری سرگرمیاں سکڑ سکتی ہیں۔
یہ المیہ ہمیں بتاتا ہے کہ صرف ماتم اور افسوس کافی نہیں۔ حکومت کو لازمی سیفٹی سرٹیفکیشن اور سخت عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ تاجر برادری کو بھی اپنے دکانوں اور کاروباری مراکز میں حفاظتی اقدامات کو سرمایہ کاری کے طور پر لینا ہوگا۔ چند لاکھ یا کروڑ روپے کی پیشگی سرمایہ کاری نہ صرف انسانی جانیں بچا سکتی ہے بلکہ مستقبل میں اربوں روپے کے نقصان سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔
گل پلازہ کے شعلے ہمیں ایک آئینہ دکھاتے ہیں، جہاں ہماری ترجیحات، ہماری کمزوریاں اور اجتماعی بے حسی واضح ہیں۔ اگر ہم نے اس آئینے میں جھانک کر سیکھا اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے بغیر صرف ماتم کیا تو اگلی آگ کسی اور بازار یا پلازہ کو راکھ کر سکتی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں: کیا ہم صرف دکھ اور افسوس کے لیے زندہ ہیں یا سیکھنے اور بدلنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں؟









