کرپشن کے خلاف نعرے سے حقیقی احتساب تک

کرپشن کے خلاف نعرے سے حقیقی احتساب تک

تحریر:مصطفی صفدر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند نعرے ایسے ہیں جو دہائیوں تک عوام کی ذہنیت پر چھائے رہے۔ ان میں سب سے زیادہ آواز بلند کرنے والا نعرہ تھا “کرپشن کے خلاف جنگ”۔ یہ نعرہ اپنی شدت اور جذباتی قوت کی وجہ سے نہ صرف جلسوں کی گونج میں بلکہ سوشل میڈیا کے شور میں بھی نمایاں تھا۔ اس نعرے کے پیچھے ایک سیاسی شخصیت کا وعدہ تھا کہ وہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرے گا اور ایک نئی اخلاقی سیاست لے کر آئے گا۔

یہ نعرہ اور اس کے دعوے ابتدا میں بہت پرجوش تھے۔ اس شخصیت نے خود کو روایتی سیاستدانوں سے مختلف پیش کیا، اصولوں اور اخلاقی برتری کے علمبردار کے طور پر۔ ان کے بیانات میں غصہ، جوش اور شدت تھی، جو نہ صرف حامیوں کو متاثر کرتی تھی بلکہ مخالفین کے لیے بھی ایک چیلنج تھی۔ عوام نے اس کہانی کو سادہ اور واضح پایا: ملک بدعنوانی سے پریشان ہے، ولن واضح ہیں اور اس نعرے کے پیچھے کھڑے ہیں۔

لیکن ہر کہانی میں وقت کے ساتھ حقیقت سامنے آتی ہے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست تک، اس شخصیت کے سفر میں تضادات اور سوالات بڑھتے گئے۔ ابتدائی طور پر کرکٹ میں اٹھنے والے الزامات نے یہ تاثر دیا کہ اصول ہمیشہ ترجیح نہیں پاتے۔ بعد میں سیاست میں قدم رکھنے کے بعد فلاحی اداروں کا استعمال، بیرونی فنڈنگ کے معاملات اور سرکاری امانتوں کے غیر شفاف انتظامات نے یہ سوال جنم دیا کہ کیا نعرہ صرف ایک سیاسی آلہ تھا یا حقیقی جذبے کا اظہار؟

اقتدار میں آنے کے بعد، احتساب کا نعرہ بعض معاملات میں مخصوص سمت اختیار کرتا دکھائی دیا۔ بعض مقدمات میں سختی اور بعض میں خاموشی نے عوام کے ذہن میں یہ تاثر چھوڑا کہ اصولی موقف اور ذاتی مفاد کے درمیان فرق دھندلا گیا ہے۔ توشہ خانہ کے کیسز، بیرونی دوروں پر ملنے والے تحائف کی قیمت میں تبدیلی، اور مالی ریکارڈ کی تفصیلات نے اس تضاد کو واضح کر دیا۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ نعرے اور دعوے وقتی اثر رکھتے ہیں، مگر کردار اور فیصلے مستقل اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک مضبوط سیاسی بیانیہ عوام کی توقعات پیدا کرتا ہے، مگر عملی طور پر اس بیانیہ کے مطابق عمل نہ ہونا ہی سب سے بڑا نقصان ہے۔ کرپشن کے خلاف بلند آواز آج بھی سنی جاتی ہے، مگر اسی آواز کے گرد حقیقت کی پیچیدگیاں بھی واضح ہو رہی ہیں۔

یہ سیاسی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اخلاقی سیاست صرف نعرے یا دعوے نہیں، بلکہ شفافیت، شواہد اور یکساں اصولوں پر عمل کرنے کا نام ہے۔ جب عوام کے سامنے وعدے اور عملی اقدامات میں تضاد آتا ہے تو بھروسا کمزور پڑتا ہے اور نعرے کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں یہی تضاد اور دوغلا پن سب سے زیادہ سوالات پیدا کرتا ہے، اور یہی وہ سبق ہے جو آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔

Leave a reply