پاکستان کی معیشت نازک مرحلے میں: چیلنجز اور ممکنہ اصلاحات

پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ماضی کی پالیسی غلطیاں، اندرونی کمزوریاں اور عالمی دباؤ ملکی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ بحران محض وقتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔
مالیاتی خسارہ، زرمبادلہ کے محدود ذخائر، تیز مہنگائی اور توانائی کے مسائل نے عوام کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور درآمدات پر بڑھتی انحصار نے ملکی معیشت کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے، جبکہ بیرونی قرضے اور عالمی مالیاتی اداروں کے پروگرام وقتی ریلیف فراہم کرتے آئے ہیں مگر مستقل اصلاحات نہ ہونے کے باعث مسائل بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں سخت مالیاتی پالیسی، شرح سود میں اضافہ اور حکومتی اخراجات پر کنٹرول کے نتیجے میں مہنگائی کی رفتار میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے، جو مستقبل میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
توانائی کا شعبہ، جو معیشت کی کمزور کڑی رہا ہے، میں حالیہ اصلاحات اور نرخوں میں حقیقت پسندانہ ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہیں تاکہ نظام کے پائیدار چلنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح زرعی شعبہ ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے باوجود کم پیداوار کا سامنا کر رہا ہے، لیکن جدید بیج، بہتر پانی کے انتظام اور مارکیٹ تک براہِ راست رسائی پیدا کر کے اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
صنعت اور خدمات کے شعبے میں بھی واضح تضاد موجود ہے۔ مہنگی توانائی، بلند شرح سود اور پالیسی میں عدم تسلسل نے صنعتکاروں کا اعتماد کمزور کیا، تاہم آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں پاکستان نے عالمی منڈی میں اپنا اثر دکھایا ہے۔ فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ایکسپورٹس ایسے شعبے ہیں جو کم سرمایہ کے باوجود ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہو سکتی ہے، بشرطیکہ انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کے برعکس، اگر بے روزگاری اور مایوسی بڑھتی رہی تو سماجی اور معاشی استحکام متاثر ہوگا۔
ٹیکس نظام میں خامیاں اور محدود نیٹ نے ریاستی آمدنی کو مستقل دباؤ میں رکھا ہے، اور جب تک طاقتور طبقات کو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، عام شہری پر مالی بوجھ بڑھتا رہے گا۔
ماہرین کا مشترکہ خیال ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال غیر معمولی طور پر روشن تو نہیں مگر مکمل مایوس کن بھی نہیں۔ درست سمت میں پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ملکی معیشت کو متوازن اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے وقتی سیاسی مفاد کے بجائے طویل المدت قومی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔








