پاکستان کی خاموش معاشی بگڑتی تصویر: نئے انقلاب کی نوید؟

پاکستان کی خاموش معاشی بگڑتی تصویر: نئے انقلاب کی نوید؟

تحریر:محمد محسن

پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں معاشی اور سیاسی سطح پر ایک خاموش لیکن گہرا انقلاب محسوس کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکمران طبقہ اور طاقت ور حلقے اس معاشی دستک کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور عموماً اعداد و شمار کو اپنی سیاست یا مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن حقیقی معاشی حقائق ان کے نعروں سے بہت مختلف ہیں۔
حکومت کی طرف سے معاشی ترقی اور خوشحالی کے وعدے تو سامنے آتے ہیں، مگر عام آدمی کی روزمرہ زندگی، خاص طور پر کمزور اور محروم طبقوں کی معاشی حقیقتیں ان نعروں کے بالکل برعکس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی اعتماد میں کمی اور مایوسی کا پھیلا ہوا احساس ملک کی مجموعی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔
غربت اور معاشی ناہمواری کی شرح میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں غربت کی شرح تقریباً 21 فیصد تھی، جو 2023 تک 39 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ نچلے طبقے کی آمدنی بنیادی طور پر روزانہ مزدوری پر منحصر ہے، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ خوراک، بجلی، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ عام آدمی کی خریداری کی طاقت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
2025 میں افراط زر کی شرح دو ہندسوں میں رہی، جس نے غریب طبقے کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھایا۔ بالواسطہ اور براہ راست ٹیکسز کی بڑھتی ہوئی شرح نے بھی مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالا ہے۔ معاشی سست روی، جس کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو صرف 3.2 فیصد کے قریب رہی، نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں ناکامی کا سبب بنی، اور دیہی علاقوں میں بے روزگاری مزید بڑھ گئی۔
مڈل کلاس، جو گزشتہ دہائیوں میں معاشی طور پر بہتر حالات میں آئی تھی، اب معاشی دباؤ کے باعث لوئر مڈل کلاس میں گر رہی ہے۔ گریڈ 17 اور 18 کے سرکاری ملازمین، جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں، اب اپنی آمدنی اور سہولیات میں واضح کمی محسوس کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل بھی معاشی دباؤ، روزگار کے محدود مواقع اور بنیادی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
نوجوان خود روزگار کے ذریعے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر انہیں حکومتی اداروں کی جانب سے پیچیدہ انتظامی مسائل اور بعض اوقات رشوت کے تقاضوں کا سامنا ہے۔ کئی نوجوان ایسے ہیں جو بیماری کو چھپاتے ہیں، یا کم آمدنی کی وجہ سے بنیادی علاج تک حاصل نہیں کر پاتے۔ کرایہ، کھانے پینے اور دیگر ضروریات پر زیادہ تر آمدنی صرف ہو جاتی ہے، اور ٹریفک جرمانے جیسے چھوٹے چھوٹے چیلنج بھی ان کے لیے بڑی معاشی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر، حکومت کم از کم اجرت 37 ہزار روپے مقرر کرنے کے باوجود لاکھوں افراد 20–25 ہزار روپے تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ خود روزگار یا ذاتی کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے نوجوان بھی ادارہ جاتی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان اپنی معاشی ترقی کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ ان کی مشکلات پر حکومتی سطح پر کوئی مؤثر حکمت عملی یا منصوبہ موجود نہیں۔
یہ واضح ہے کہ پاکستان میں طاقت ور طبقات کی معاشی ترجیحات اور کمزور طبقے کی بقا کے درمیان تضاد ایک نئے معاشی اور سیاسی انقلاب کی نوید دے رہا ہے۔ ضروری ہے کہ حکمران طبقہ اور معاشی طور پر بااثر حلقے عوام کی آواز سنیں اور حقیقی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ ملک کی معاشی بنیادیں مستحکم ہو سکیں اور نئی نسل پرستی کی راہ میں کامیابی حاصل ہو۔

Leave a reply