میری طاقت، میری مرضی — نئی عالمی سیاست کا خطرناک موڑ

دنیا ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ تصور عام ہو چلا تھا کہ طاقت کے استعمال پر کم از کم کچھ اخلاقی، قانونی اور سفارتی پابندیاں ضرور قائم رہیں گی۔ بین الاقوامی ادارے، عالمی معاہدے اور اجتماعی مفادات اسی امید کے سہارے وجود میں آئے تھے۔ مگر اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ تمام تصورات تیزی سے تحلیل ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ ایک نیا اصول جنم لے رہا ہے: طاقت ہی قانون ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ سوچ اور بیانات اسی اصول کا کھلا اظہار ہیں۔ وہ یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ چونکہ سب سے بڑی عسکری قوت ہے، اس لیے اسے کسی عالمی قانون، معاہدے یا اخلاقی دائرے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ حملہ کرنا ہو، دباؤ ڈالنا ہو یا کسی خطے پر قبضے کی خواہش ہو — فیصلہ صرف طاقت کے توازن کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ اصولوں پر۔
یہ طرزِ فکر محض ایک فرد کی رائے نہیں بلکہ عالمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ اگر ایک بڑی طاقت یہ اعلان کر دے کہ وہ صرف اپنی مرضی اور اپنی اخلاقیات کو مانتی ہے تو پھر دوسروں کو کون روکے گا؟ روس، چین یا کوئی اور طاقت کیوں نہ یہی منطق اختیار کرے؟ یوں دنیا ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو سکتی ہے جہاں ہر طاقتور کمزور کو نگلنے کے لیے آزاد ہو۔
گرین لینڈ، تائیوان، یوکرین، ایران اور مشرقِ وسطیٰ — یہ سب محض جغرافیائی نام نہیں بلکہ اس نئی عالمی کشمکش کی علامتیں ہیں۔ ان خطوں میں مسئلہ صرف وسائل یا سلامتی کا نہیں بلکہ یہ سوال بنیادی ہے کہ دنیا نظم و ضبط سے چلے گی یا طاقت کی من مانی سے؟
یورپ، جو کبھی امریکہ کا سب سے مضبوط اتحادی سمجھا جاتا تھا، آج خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ جرمنی، فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ کیا امریکہ اب بھی ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے؟ نیٹو جیسے ادارے، جو اجتماعی دفاع کی علامت تھے، اب اپنی معنویت کھوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جب اتحادی ہی ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے لگیں تو اتحاد محض ایک رسمی لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال پہلے ہی نازک ہے۔ ایران کے اندر معاشی دباؤ، عوامی بے چینی اور بیرونی مداخلت کے خدشات ایک خطرناک امتزاج بنا رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اندرونی مسائل کو بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں تو نتیجہ اکثر تباہ کن ہوتا ہے۔ عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
ایران کے معاشرے کو محض سادہ خانوں میں تقسیم کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ وہاں اکثریت مذہبی ضرور ہے، مگر یہ مذہبیت یکساں نہیں۔ ایک طبقہ صرف معاشی بہتری اور استحکام چاہتا ہے، جبکہ دوسرا اصلاحات اور دنیا سے متوازن تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ مکمل نظام کی تباہی یا بیرونی مداخلت کو قبول کرنے پر تیار ہوں گے۔ اگر بیرونی دباؤ بڑھایا گیا تو اس کا فائدہ اصلاح پسندوں کو نہیں بلکہ انتہا پسند عناصر کو ہوگا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج طاقت کے مراکز یہ سمجھنے لگے ہیں کہ خوف کے ذریعے دنیا کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ مگر تاریخ اس خیال کی نفی کرتی ہے۔ خوف وقتی اطاعت تو پیدا کر سکتا ہے، پائیدار امن نہیں۔ امن ہمیشہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام سے جنم لیتا ہے۔
عالمی اداروں کی خاموشی بھی کم تشویشناک نہیں۔ اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر فورمز اگر صرف رسمی بیانات تک محدود رہیں گے تو ان کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ چھوٹے ممالک کے لیے یہ ادارے آخری امید ہوتے ہیں، اور جب یہی امید ٹوٹ جائے تو دنیا واقعی طاقتوروں کے رحم و کرم پر آ جاتی ہے۔
آئن سٹائن کا وہ مشہور قول آج پہلے سے زیادہ معنی خیز لگتا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو چوتھی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔ جدید دنیا کی ساری ترقی، ٹیکنالوجی اور تہذیب اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب عالمی سیاست کو کسی نہ کسی اخلاقی فریم ورک میں رکھا جائے۔
سوال یہ نہیں کہ امریکہ طاقتور ہے یا نہیں — وہ یقیناً ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کرنے دیا جائے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر کسی بھی چھوٹے ملک، کسی بھی کمزور قوم اور کسی بھی آزاد معاشرے کے لیے کوئی ضمانت باقی نہیں رہتی۔
دنیا کو آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ “میری طاقت، میری مرضی” کے اصول کو قبول کرتی ہے یا قانون، مکالمے اور اجتماعی دانش کو بچانے کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو کل شاید آواز اٹھانے والا کوئی باقی نہ رہے۔









