لسانیت کا زہر: قومی وحدت پر سب سے بڑا خطرہ

لسانیت کا زہر: قومی وحدت پر سب سے بڑا خطرہ

تحریر:اکرم ثاقب

انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ سے ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ رہی ہے، اور یہ ثقافتی تنوع کا بھی حسن ہے۔ قدرت نے انسانوں کو مختلف گروہوں اور علاقوں میں تقسیم کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان کر سکیں، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری جتانے یا نفرت کی بنیادیں استوار کرنے کے لیے۔
لسانیت کی بنیاد پر قومیت کا تصور حقیقت میں غیر فطری اور سائنسی طور پر کمزور نظریہ ہے۔ اگر غور کریں تو زبان یا بولی کا لہجہ محلے، گاؤں یا چند میل کے فاصلے پر بدل جاتا ہے۔ برطانیہ کے مشہور ڈرامہ نگار برنارڈ شا نے لندن میں بولی جانے والی انگریزی کا مشاہدہ کیا تو پایا کہ مضافات میں درجنوں مختلف لہجے تھے، جو ایک ہی زبان ہونے کے باوجود اکثر تفہیم میں مشکل پیدا کرتے تھے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ زبان ایک بہتا ہوا دریا ہے، جو جغرافیائی حدود کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اسے کسی مخصوص قومیت کی زنجیر میں جکڑنا انسانی ارتقا کے خلاف ہے۔
پاکستان میں، بدقسمتی سے، لسانیت صرف ثقافتی شناخت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے صوبائیت اور قومیت کے عفریت کو جنم دیا، جو قومی وحدت کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ جب زبان سیاست کا محور بن جاتی ہے تو یہ نفرت اور تفرقہ کو ہوا دیتی ہے، اور صوبائی سرحدیں دشمنی کی دیواروں میں بدل جاتی ہیں۔
لسانیت کی بنیاد پر پھیلنے والا یہ زہر، ایک ایسا عفریت ہے جو انسان کو اپنی زمین، بھائی چارے اور مشترکہ تاریخ سے کاٹ دیتا ہے۔ یہ عفریت وفاق کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ ان کی فلاح اپنے صوبے یا زبان میں ہے، نہ کہ مضبوط پاکستان میں۔
پاکستان کی قومی وحدت پر وار کرنے والے صرف داخلی عوامل نہیں، بلکہ بیرونی طاقتیں بھی اس کھیل میں شامل ہیں۔ بھارت، جو قیام پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کر پایا، لسانی عصبیت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ 1971 میں سقوطِ ڈھاکا کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے اس کا عملی مظاہرہ کیا، اور آج بھی وہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اسی فارمولے کی کوشش کر رہی ہے۔
کلبھوشن یادو کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کے مختلف صوبوں کے عوام کو وفاق کے خلاف بھڑکانے کے لیے لسانی کارڈ استعمال کرتا ہے۔ بعض عناصر کو حقوق کا جھانسا دے کر ریاست کے خلاف کھڑا کرنا اور انہیں مالی و عسکری مدد فراہم کرنا بھارت کا وہ مقصد ہے جو پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے۔
یہ کھیل صرف بھارت تک محدود نہیں۔ عالمی استعماری طاقتیں بھی پاکستان کو ایک مضبوط مسلم ایٹمی ملک کے طور پر دیکھنا نہیں چاہتیں۔ مخصوص تھنک ٹینکس نے ماضی میں ایسے نقشے جاری کیے جن میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سرحدوں کو لسانی اور نسلی بنیاد پر دوبارہ تقسیم کرنے کی تجاویز تھیں۔ افغانستان اور ایران کی بعض سرگرمیاں بھی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لسانی سیاست کو ہوا دینے کا حصہ رہی ہیں۔
پاکستان میں لسانیت کی بنیاد پر چلنے والی تحریکیں اکثر بیرونی فنڈنگ اور پروپیگنڈے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ دشمن جانتا ہے کہ جب تک عوام پاکستانیت کے پرچم تلے متحد ہیں، انہیں شکست دینا ممکن نہیں۔ اس لیے وہ لسانیت اور صوبائیت کے عفریت کو استعمال کرتا ہے۔ جب ایک پنجابی، سندھی، بلوچ یا پشتون صرف اپنی زبان تک محدود ہو جاتا ہے، تو وہ انجانے میں دشمن کا آلہ کار بن جاتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جن قوموں نے لسانیت کو بنیاد بنا کر ریاستیں قائم کیں، وہ اندرونی عدم استحکام کا شکار رہی ہیں۔ زبان بدلنے سے خون یا رشتے نہیں بدلتے۔ پاکستان کی بقا اس بات میں ہے کہ ہم اپنی لسانی شناخت کو ثقافتی ورثے کے طور پر اپنائیں، لیکن اسے قومی شناخت پر حاوی نہ ہونے دیں۔ سندھ کے مچھیرے، پنجاب کے کسان، خیبر کے غیور پختون اور بلوچستان کے جفاکش عوام تبھی مضبوط وفاق کا حصہ بنیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دشمن کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کو پہچانیں۔ پاکستان کے خلاف ہونے والی سازش کا مقابلہ تبھی ممکن ہے جب ہم لسانی تعصبات کی زنجیریں توڑ کر متحد ہو جائیں۔ زبانیں رابطے کے لیے ہوتی ہیں، جنگ کے لیے نہیں۔ پاکستان ایک حقیقت ہے، اور ان شاء اللہ اس حقیقت کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے، بشرطیکہ ہم متحد رہیں۔

Leave a reply