قومی پاسپورٹ کی عزت و آبرو: حقیقت یا افسانہ؟

حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق میں ایک خبر سامنے آئی کہ ایف آئی اے کے اقدامات کی وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ کی بین الاقوامی رینکنگ میں 118 ویں سے 92 ویں نمبر تک بہتری آئی ہے۔ خبر میں بتایا گیا کہ مختلف ممالک سے بھیک مانگنے یا غیر قانونی قیام کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی واپس آئے یا ڈی پورٹ کیے گئے، جسے رینکنگ میں بہتری کا سبب قرار دیا گیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر پاسپورٹ رینکنگ کا معیار بلکل مختلف ہے۔ سب سے معتبر ادارہ “ہینلے اینڈ پارٹنرز” سمجھا جاتا ہے، جو رینکنگ میں تین بنیادی عناصر کو مدنظر رکھتا ہے:
کتنے ممالک میں بغیر ویزہ داخلہ ممکن ہے۔
کتنے ممالک میں “ویزا آن ارائیول” دستیاب ہے۔
کتنے ممالک میں ویزہ لازمی ہے۔
پاکستان کی موجودہ پوزیشن 102 ویں ہے، اور گزشتہ سال یہ 101 ویں تھی۔ اس وقت پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے 33 ممالک میں ویزہ فری یا آن ارائیول داخلہ ممکن ہے۔ اس کے برعکس سنگاپور کا پاسپورٹ دنیا میں سب سے طاقتور ہے، جس سے 193 ممالک میں بغیر ویزہ سفر ممکن ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی مسافر کو طیارے سے اُتارنے یا واپس بھیجنے کا عمل عالمی رینکنگ پر اثر نہیں ڈالتا۔ اگر ایسا ہوتا، تو لاکھوں مسافروں کی آفرلوڈنگ کے بعد پاکستان پہلے نمبر پر آ سکتا تھا، جو حقیقت سے بعید ہے۔ اصل میں، پاسپورٹ کی عزت اور رینکنگ میں بہتری کا انحصار صرف اور صرف بین الاقوامی سفری سہولتوں پر ہوتا ہے، نہ کہ ملک کے شہریوں کی محدود تعداد پر۔
یقیناً ہم سب چاہتے ہیں کہ پاکستانی پاسپورٹ مضبوط اور عزت دار ہو، لیکن یہ عزت و آبرو محض اعداد و شمار سے نہیں بلکہ ملک کی عالمی ساکھ، سفارتی تعلقات، اور سہولتوں کے معیار سے جڑی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے قومی مفاد کو سمجھیں اور حقیقت پسندی کے ساتھ اصلاحات کریں، بجائے اس کے کہ غیر حقیقت پسندانہ دعووں سے خوشی محسوس کریں۔









