عوام کیوں مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دَبے ہیں؟

عوام کیوں مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دَبے ہیں؟

تحریر:نور فاطمہ

پاکستان کے عوام آج بجلی کے سب سے مہنگے بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ عام شہری کی کمائی کا ایک بڑا حصہ صرف توانائی اور روشنی کے حصول کے لیے ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ بس بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے زندہ ہیں۔ یہ رقم ملک کی چند بڑی اشرافیہ کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے، اور عوام کے پچیس کروڑ لوگ ان بیس سے پچیس خاندانوں کو مالی طور پر سہارا دے رہے ہیں۔
پاکستان کے قیام کے وقت 1947ء میں ملک میں صرف 60 میگاواٹ بجلی دستیاب تھی، جو آج ایک چھوٹے ونڈ فارم کی پیداواری صلاحیت کے برابر ہے۔ ہمارے پاس قدرتی آبی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، لیکن مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ان سے مطلوبہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اگر درست منصوبہ بندی کی جاتی تو ہم 500 ارب یونٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کر سکتے تھے، جو ملکی ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے۔
بدقسمتی سے، ہم سستی، صاف اور پائیدار بجلی کے بجائے مہنگے تھرمل پلانٹس پر انحصار کر رہے ہیں، جو نہ صرف معیشت پر بوجھ ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
نجی پاور پلانٹس (IPPs) کی بڑھتی تعداد
1994ء کی توانائی پالیسی کے تحت صرف 19 نجی پاور پلانٹس شروع ہوئے تھے، لیکن آج یہ تعداد بڑھ کر 106 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پلانٹس بجلی پیدا کیے بغیر حکومت سے اربوں روپے وصول کر رہے ہیں، جو عام عوام کی محنت کی کمائی ہے۔ 2002ء اور 2006ء میں مزید آئی پی پیز کے لائسنس دیے گئے، اور 2015ء میں کچھ مزید پلانٹس شامل ہوئے۔ نتیجتاً، پاکستان میں نجی پاور سیکٹر کی طاقت بڑھ گئی اور عوام کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو گئی۔
واپڈا کی پن بجلی کی لاگت فی یونٹ تقریباً 3.25 روپے ہے، جبکہ نجی پاور پلانٹس سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔ اس فرق کی وجہ سے اربوں روپے ملک سے باہر جاتے ہیں، اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے ساتھ بجلی اور بھی مہنگی ہو جاتی ہے۔
سولر انرجی: عوام کی بغاوت
مہنگائی اور ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث، عام شہری اب سولر انرجی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ گھروں، دیہات اور زرعی ٹیوب ویلوں پر سولر پینلز لگائے جا رہے ہیں، جس سے عوام خود اپنی توانائی پیدا کر کے مہنگی بجلی کے نظام کا بدلہ لے رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال اور حل
2015ء سے 2025ء کے دوران نجی پاور پلانٹس کو تقریباً 20 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔ اگر مقامی وسائل پر مبنی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جاتا، تو مہنگی درآمدی بجلی پر انحصار کم ہوتا اور عوام پر بوجھ بھی کم پڑتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں۔ اگر منصوبہ بندی درست ہو، تو پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری کر سکتا ہے اور بجلی کے بل عوام کے لیے عذاب بننے سے بچ سکتے ہیں۔

Leave a reply