عالمی بیانیہ، داخلی حقیقتیں اور پاکستان کا نیا امتحان

عالمی بیانیہ، داخلی حقیقتیں اور پاکستان کا نیا امتحان

تحریر:محمد رضا

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی سیاست نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ طاقت، مفاد اور بیانیہ کسی مستقل ترتیب کے پابند نہیں۔ بین الاقوامی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں بڑے ممالک اپنی داخلی ترجیحات اور خارجی مفادات کے مطابق رویے تبدیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں امن، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار اکثر انتخابی نعروں یا مخصوص جغرافیوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اسی پس منظر میں پاکستان کا تذکرہ ایک مختلف زاویے سے سامنے آ رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری سفارت کاری، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار، کو سنجیدگی سے نوٹ کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک پاکستان کی عسکری قیادت ایک محتاط، منظم اور ادارہ جاتی سوچ کی نمائندہ نظر آ رہی ہے، جو قومی سلامتی کو محض عسکری طاقت نہیں بلکہ داخلی استحکام، سفارتی توازن اور ریاستی نظم سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ یہ تاثر خطے کے کئی ممالک، خصوصاً بھارت کے پالیسی حلقوں کے لیے بھی باعثِ غور بنتا جا رہا ہے۔
تاہم عالمی سطح پر ملنے والی یہ پذیرائی اس حقیقت سے نظریں چرا لینے کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ اندرونِ ملک پاکستان کو سنجیدہ نوعیت کے انتظامی اور سیاسی چیلنجز درپیش ہیں۔ سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی وہ ستون ہیں جن پر کسی بھی ریاست کی ساکھ قائم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، ان ہی ستونوں کو اندر سے کمزور کرنے والے عوامل بھی موجود ہیں۔
صوبہ پنجاب کی مثال اس صورتحال کو بخوبی واضح کرتی ہے، جہاں سول بیوروکریسی کے بعض حلقے برسوں سے طاقت اور اختیار کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ ایک ہی ضلع یا حساس عہدوں پر طویل تعیناتیاں، من پسند پوسٹنگز اور سیاسی قیادت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی روش، عوامی خدمت کے تصور کو پسِ پشت ڈالتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بظاہر نظام کا محافظ نظر آتا ہے، مگر عملی طور پر نظام کو اپنے مفادات کے تابع رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
قومی اسمبلی میں رکن پارلیمنٹ میجر (ر) طاہر اقبال کی جانب سے اٹھائے گئے نکات اسی زمینی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز کی دستیابی کے باوجود تعمیراتی سرگرمیوں کا نہ ہونا، بلدیاتی اداروں میں بدعنوانی، اور منتخب نمائندوں کی شکایات کو نظرانداز کیا جانا ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں فائل، کمیشن اور سرخ فیتہ عوامی ضرورت پر غالب آ چکا ہے۔ یہ صورتحال اس حد تک تشویشناک ہے کہ منتخب ارکان خود کو بے اختیار محسوس کرنے لگے ہیں۔
مزید برآں، مختلف بدعنوانی مقدمات میں بڑی رقوم کی برآمدگی اس امر کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کس طرح لوٹے جا رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں رشوت ستانی محض انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک منظم طریقہ کار کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام شہری کو پہنچتا ہے۔ اگر ان معاملات پر غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں تو کئی برسوں سے جاری انتظامی بے قاعدگیاں بے نقاب ہو سکتی ہیں۔
اس کے برعکس، عالمی سطح پر پاکستان کا مجموعی تاثر بتدریج بہتر ہو رہا ہے۔ دفاعی جرائد، عالمی میڈیا اور پالیسی تھنک ٹینکس پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنے لگے ہیں جہاں سول قیادت، عسکری کمان اور سفارتی نظام میں نسبتاً ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک ایسے عسکری قائد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو ادارہ جاتی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے وسیع تر تصور پر یقین رکھتے ہیں۔
سیاسی سطح پر نواز شریف کا یہ مؤقف کہ قومی طاقت کی بنیاد محاذ آرائی نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور معاشی اعتماد ہے، موجودہ حالات میں خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے شدید معاشی دباؤ کے باوجود حکمرانی میں استحکام کو ترجیح دینے کی کوشش کی، جس سے ریاستی اداروں کو کام کرنے کے لیے نسبتاً سازگار ماحول میسر آیا۔ اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارت کاری نے عالمی مالیاتی اداروں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے روابط کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار رکھا۔
آج پاکستان کو محض ایک بحران زدہ ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو داخلی نظم، عسکری پیشہ ورانہ مہارت اور متوازن سفارت کاری کے امتزاج سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی توازن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک روایتی طاقتور جنرل کے بجائے ایک جدید اور ادارہ جاتی عسکری قائد کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
لیکن یہ مرحلہ کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک امتحان بھی ہے۔ اگر سیاسی عدم استحکام، بدعنوان بیوروکریسی اور ادارہ جاتی بے قاعدگیوں پر قابو نہ پایا گیا تو عالمی سطح پر حاصل ہونے والا اعتماد عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی نئی شناخت کو مستقل بنانے کے لیے شفاف احتساب، حکمرانی کا تسلسل اور ادارہ جاتی ضبطِ نفس ناگزیر ہیں۔
یوں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر پذیرائی محض ایک فرد کی تعریف نہیں بلکہ اس وسیع تر تبدیلی کا اعتراف ہے جس کے ذریعے پاکستان ایک بحران زدہ ریاست سے نکل کر اسٹریٹجک اعتماد اور قومی ہم آہنگی کی حامل ریاست بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ایسے عالمی ماحول میں جہاں ذمہ دار قیادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی کہ وہ اس اعتماد کو پائیدار کامیابی میں بدل سکے۔

Leave a reply