سی سی ڈی کی کارروائیاں: ریاست کی رٹ یا عوام کا نقصان؟

پنجاب میں پولیس اصلاحات کا اعلان ایک بار پھر ہوا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی تبدیلی کی ابتدا ہے یا محض سیاسی دعویٰ۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تین ماہ کی ٹائم لائن دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پولیس نظام کی اصلاحات کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں، مگر پاکستان میں جہاں تھانہ کلچر دہائیوں سے خوف، ذلت اور ناانصافی کی علامت رہا ہے، وہاں صرف ڈیڈ لائن دینا کافی نہیں۔
پولیس کو شہریوں کو “سر” کہہ کر مخاطب کرنے کی ہدایت، تھانوں کے باہر پینک بٹن، اہلکاروں پر باڈی کیم اور انویسٹی گیشن کی ویڈیو ریکارڈنگ جیسے اقدامات بظاہر جدید اور مہذب نظر آتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان اقدامات سے انصاف بھی ملے گا یا صرف نگرانی بڑھے گی؟ اگر شہری کو عزت کے ساتھ مخاطب کیا جائے مگر ایف آئی آر درج نہ ہو، اگر شکایت کے باوجود فائل دبادی جائے، تو کیمرے اور اچھے الفاظ کس کام کے؟ مسئلہ لہجے کا نہیں، نیت اور نظام کا ہے۔ شہریوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ پولیس ان کی نہیں، طاقتور کی سنتی ہے۔ اگر اصلاحات اس بنیادی مسئلے کو حل نہ کریں تو وہ محض سطحی تبدیلی ہوں گی۔ کیمرے تب بامعنی ہوں گے جب ان کی فوٹیج واقعی انصاف کے لیے استعمال ہو، نہ کہ محکمے کے تحفظ کے لیے۔
یہی حکومت پہلے سی سی ڈی کے قیام کو بھی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر چکی ہے۔ سی سی ڈی کا مقصد خطرناک ڈاکو، شوٹر اور بڑے منشیات فروشوں کا خاتمہ تھا، اور اس کے بعد کئی جرائم پیشہ عناصر انجام تک پہنچے اور مجموعی جرائم میں کمی دیکھی گئی۔ ریاست نے اپنی رٹ دکھائی، میڈیا پر کامیابیوں کے دعوے کیے اور کارروائیوں کو سراہا گیا، مگر سب سے اہم کردار نظرانداز رہا: متاثرہ شہری۔ جن لوگوں کو ڈاکوؤں نے لوٹا، گھروں سے جمع پونجی لی یا کاروبار برباد ہوئے، ان میں سے کتنے لوگ اپنے نقصان کی تلافی حاصل کر پائے؟ ریاست نے متاثرین کو صرف یہ بتا کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ “ملزم مارا گیا” یا “گرفتار ہو گیا”، مگر ایک لٹے ہوئے شہری کے لیے یہ انصاف نہیں۔ ریاستی انصاف سزا تک محدود نہیں، ازالے تک مکمل ہوتا ہے۔
سی سی ڈی نے طاقت تو دکھائی مگر ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہی خدشہ اب نئے پولیس اصلاحاتی پیکج کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر تین ماہ بعد تھانوں میں کیمرے لگ جائیں مگر رویہ نہ بدلے، اگر شکایات درج ہوں مگر ان پر عمل نہ ہو، اگر اہلکار کی زیادتی ثابت ہو مگر سزا نہ ملے، تو یہ اصلاحات بھی نمائشی بن جائیں گی۔ نئے آئی جی پنجاب راو عبدالکریم کے لیے یہ فیصلہ کن لمحہ ہے کہ وہ پولیس کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں اور ہر زیادتی پر فوری اور نظر آنے والا احتساب یقینی بنائیں۔ خفیہ انکوائریاں یا خاموش تبادلے عوام کا اعتماد بحال نہیں کر سکتے۔
سب سے بڑا سوال وہی ہے جس سے ریاست ہمیشہ گریز کرتی آئی ہے: کیا حکومت متاثرہ شہری کے نقصان کے ازالے کے لیے کوئی واضح اور عملی نظام متعارف کروائے گی؟ کیا پولیس کی ناکامی یا غفلت کی قیمت ریاست ادا کرے گی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ اصلاحات عوام کے لیے نہیں، بلکہ صرف حکومتی تشہیر کے لیے ہوں گی۔
مریم نواز شریف ماضی کے حکمرانوں کے مقابلے میں زیادہ متحرک نظر آتی ہیں، مگر تاریخ نیت نہیں، نتیجہ دیکھتی ہے۔ اگر تین ماہ بعد بھی عام شہری تھانے میں بے بس محسوس کرے، اگر نقصان کا ازالہ نہ ہو، تو یہ اصلاحات ماضی کے وعدوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گی۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا: کیا وہ صرف طاقتور دکھنا چاہتی ہے یا واقعی منصف بننا چاہتی ہے۔ پولیس اصلاحات کی کامیابی اسی دن ممکن ہوگی جب ریاست نہ صرف مجرم کو سزا دے بلکہ ہر متاثرہ شہری کے نقصان کا ازالہ بھی کرے۔ تبھی عام شہری کے لیے یہ اصلاحات محض بیانات یا کیمرے نہیں، بلکہ حقیقی انصاف اور تحفظ بن جائیں گی۔ جب تک یہ دن نہیں آتا، کاغذ پر بنائی گئی اصلاحات عوام کی زندگی میں فرق نہیں ڈال سکتیں، اور نیت اور نتیجے کے درمیان فاصلہ ویسا ہی برقرار رہے گا جیسا آج ہے۔








