سیاسی مفاہمت: جمہوریت کی ضرورت

جمہوری معاشروں کی پہچان ان کے مسائل کے حل اور باہمی گفت و شنید کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود جب قیادتیں مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو جمہوریت مضبوط، معیشت مستحکم اور ریاستی ادارے متوازن رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب سیاستدان ذاتی اختلافات اور انتقام کی سیاست میں الجھ جاتے ہیں تو ریاست کمزور اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی اختلافات اکثر ذاتی دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیں دکھاتی ہے کہ بھٹو کی پھانسی، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی جلاوطنی جیسے تلخ تجربات نے نہ صرف سیاست بلکہ جمہوریت اور ریاستی استحکام کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ 2006ء میں طے پانے والا میثاقِ جمہوریت اور بعد کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مفاہمت اور باہمی برداشت کے بغیر جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی۔
حالیہ سیاسی ماحول میں بھی یہی ضرورت دوبارہ محسوس کی جا رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات اور ڈائیلاگ کی باتیں مثبت اشارے ہیں۔ اگرچہ فریقین کے درمیان کچھ اختلافات موجود ہیں، مگر غیر مشروط مذاکرات کی تیاری اور اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کا قیام امید افزا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
سیاسی مفاہمت کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی کی علامت ہے۔ عالمی مثالیں جیسے جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کا مفاہمت کا راستہ، شمالی آئرلینڈ کا ‘گڈ فرائیڈے معاہدہ’، اور اسپین میں عبوری جمہوری عمل یہ واضح کرتے ہیں کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات ہی قوموں کو آگے بڑھاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی مفاہمت کی ضرورت صرف حکومت کے لیے نہیں، بلکہ اپوزیشن کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔ کسی فرد یا جماعت کی ذاتی سیاست کے بجائے قومی مفاد، آئین کی بالادستی اور عوام کی خوشحالی کو ترجیح دینا ہی ملک کے استحکام کی ضمانت ہے۔
جمہوریت کے مضبوط مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سیاستدان ذاتی انا، انتقام یا ضد کی سیاست کو خیرباد کہہ کر مکالمہ اور مفاہمت کا راستہ اپنائیں۔ یہی سیاست کی اصل روح ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔









