سوشل میڈیا، فالوورز اور خود ساختہ انقلابی

سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان بنا دیا ہے، لیکن اس آسانی کے ساتھ ایک عجیب ذہنی بیماری بھی پیدا ہوئی ہے۔ آج اگر کسی کے چند سو یا چند ہزار فالوورز ہو جائیں تو وہ خود کو قوم کا نجات دہندہ سمجھنے لگتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی اس کے ذہن میں ایک ہی خیال ہوتا ہے: انقلاب۔
وہ ٹویٹر، فیس بک یا انسٹاگرام پر لمبی لمبی تحریریں لکھتا ہے، ملک کی بربادی کے نوحے پڑھتا ہے اور ہر اس شخص کو ٹیگ کرتا ہے جسے وہ بااثر سمجھتا ہے۔ مقصد ایک ہی ہوتا ہے: میرے انقلاب کی تشہیر۔
مسئلہ یہ نہیں کہ تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ذاتی سوچ کو آخری سچ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جو اس سے متفق نہیں، وہ یا تو بک چکا ہے، بزدل ہے یا ملک دشمن۔ اختلافِ رائے اب مکالمہ نہیں رہا، بلکہ غداری کی فہرست بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ لائک اور فالو کو عوامی حمایت سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی پوسٹ کو پسند کرنا اور کسی نظریے کے لیے قربانی دینا، یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
اسکرین کے پیچھے بیٹھا شخص صرف چند سیکنڈ میں آپ کو فالو کر لیتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ آپ کے لیے سڑکوں پر نکل آئے گا یا اپنی زندگی داؤ پر لگا دے گا۔
یہی غلط فہمی بعض صحافیوں، یوٹیوبرز اور تجزیہ کاروں میں بھی پیدا ہو چکی ہے۔ کچھ لوگوں کو لگنے لگا ہے کہ اب وہ صرف خبر دینے والے نہیں رہے، بلکہ حکومتیں بنانے اور گرانے والے کردار بن چکے ہیں۔ جب تعریفوں کی بارش ہوتی ہے، سیلفیوں کی فرمائش ہوتی ہے اور وزراء فون کرنے لگتے ہیں، تو نفس کا توازن بگڑنا شروع ہو جاتا ہے۔
آہستہ آہستہ صحافت، تجزیے سے نکل کر کردار کشی میں بدل جاتی ہے۔ زبان سخت ہوتی چلی جاتی ہے کیونکہ بدتمیزی کو بہادری سمجھ لیا جاتا ہے۔ دلیل کی جگہ شور آ جاتا ہے، اور اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ عام عوام کو “اشرافیہ” کے خلاف بھڑکا رہے ہوتے ہیں، اکثر خود اسی طبقے کا حصہ ہوتے ہیں۔ انقلابی بیانیہ ایک پروڈکٹ بن جاتا ہے، جس سے ویوز، فالوورز اور آمدن حاصل کی جاتی ہے۔ اگر واقعی کوئی انقلاب آ جائے، تو سب سے پہلے اسی طبقے کے مفادات خطرے میں پڑیں گے، مگر یہ سچ عوام کو نہیں بتایا جاتا۔
سوشل میڈیا نے سیاستدانوں کو بھی دھوکا دیا ہے۔ آن لائن مقبولیت نے کئی لوگوں کو یہ یقین دلا دیا کہ عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ زمینی حقیقت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کا شور اکثر خاموش اکثریت کی رائے نہیں ہوتا۔
ریاست نے جب دیکھا کہ سوشل میڈیا پر زبان اور رویہ بے قابو ہو رہا ہے تو قوانین سخت کیے گئے۔ ہر حکومت نے پچھلی حکومت کے بنائے گئے قوانین کو مزید مضبوط کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی لوگ جو خود کو انقلابی کہتے تھے، قانون کی زد میں آنے لگے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی تبدیلی چاہتا ہے تو کیا وہ اس کی قیمت خود ادا کرنے کو تیار ہے؟
انقلاب صرف نعرہ نہیں ہوتا، یہ ذمہ داری مانگتا ہے۔ اگر کسی نظریے سے فائدہ سب سے زیادہ آپ کو ہونا ہے تو قربانی بھی سب سے پہلے آپ ہی کو دینی چاہیے، نہ کہ دوسروں کو گالیاں دے کر میدان میں دھکیل دیا جائے۔
تبدیلی وقت کے ساتھ خود بھی آتی ہے، مگر زبردستی مسلط کی گئی سوچ کبھی پائیدار نہیں ہوتی۔ معاشرے مکالمے سے بدلتے ہیں، چیخ و پکار سے نہیں۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر اختلاف کرنے والا دشمن نہیں ہوتا، اور ہر فالوور سپاہی نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، مگر آئینہ بھی۔ اگر اس میں جھانک کر خود کو خدا سمجھ لیا جائے، تو مسئلہ انقلاب کا نہیں، غرور کا بن جاتا ہے۔









