جب قاضی ہی کٹہرے میں آ کھڑا ہو

جب قاضی ہی کٹہرے میں آ کھڑا ہو

تحریر:نور فاطمہ

تاریخ اور ادب میں قاضی کا کردار ہمیشہ انصاف، دیانت اور غیر جانبداری کی علامت سمجھا گیا ہے۔ مگر جب یہی قاضی ہوشیاری، چالاکی اور فریب سے وقتی طور پر سچ کو چھپا لے، تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس نے قانون کو کیسے موڑا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ سچ کب اور کیسے سامنے آئے گا۔

کہا جاتا ہے کہ جھوٹ اپنی عمر خود طے نہیں کرتا، اس کی عمر سچ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ بسا اوقات سچ دیر سے آتا ہے، مگر جب آتا ہے تو پورا حساب مانگتا ہے۔ ایک قاضی کی پرانی حکایت ہو یا آج کی عدالتی تاریخ، اصول ایک ہی ہے: فریب وقتی طور پر بچا سکتا ہے، مستقل نہیں۔

آج ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں انصاف کرنے والوں پر ہی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ عدالتیں جو عوام کے آخری سہارے کی علامت سمجھی جاتی تھیں، خود سوالوں کے گھیرے میں آ چکی ہیں۔ جب کسی جج کی تعیناتی ہی قانونی تقاضوں پر پوری نہ اترے، جب بنیادی تعلیمی اسناد مشکوک یا منسوخ ہو جائیں، تو پھر صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا نظام کٹہرے میں آ جاتا ہے۔

یہ سوال انتہائی سنجیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص قانونی طور پر وکیل بننے کا اہل ہی نہ ہو، تو وہ جج کے منصب پر کیسے فائز رہا؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس کے قلم سے صادر ہونے والے فیصلوں کا کیا بنے گا؟ انصاف صرف فیصلے کا نام نہیں، انصاف فیصلہ کرنے والے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے عدلیہ کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار رکھنے کا خواب اکثر مصلحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ طاقتور حلقوں کی سرپرستی، وقتی فائدے، یا ادارہ جاتی خاموشی ایسے عناصر ہیں جو نااہل کو اہل اور غلط کو درست بنا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ مگر قدرت کا اصول سادہ ہے: جو نظام جھوٹ پر کھڑا ہو، وہ دیر یا سویر گر ہی جاتا ہے۔

حضرت علیؓ کا یہ قول آج بھی زندہ حقیقت ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ناانصافی کا نہیں۔” یہی وجہ ہے کہ جب ناانصافی حد سے بڑھتی ہے تو خود نظام اپنے بوجھ تلے دبنے لگتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عدل صرف عدالت کی عمارت یا جج کے منصب کا نام نہیں۔ عدل ایک اخلاقی ذمہ داری ہے، اور جب یہ ذمہ داری ذاتی مفاد، سیاسی وابستگی یا جھوٹ کی بنیاد پر ادا کی جائے تو پھر فیصلے انصاف نہیں، تاریخ کا بوجھ بن جاتے ہیں۔

آج اگر چند چہرے بے نقاب ہو رہے ہیں تو یہ کسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ مکافاتِ عمل کا فطری تسلسل ہے۔ سچ کو جتنا دبایا جائے، وہ اتنی ہی شدت سے ابھرتا ہے۔ یہی قدرت کا انصاف ہے، اور شاید یہی اس قوم کے لیے آخری امید بھی۔

Leave a reply