بسنت: خوشیوں کی پرانی پرواز یا خطرے کی علامت؟

بسنت کبھی صرف پتنگ بازی کا نام نہیں تھا۔ یہ پنجاب کی روح تھی، موسم بہار کی پہلی مسکراہٹ، صدیوں پرانی ثقافتی روایت۔ چھتیں رنگین پتنگوں سے سجتیں، ڈھول کی تھاپ اور بلند قہقہوں کے ساتھ شہر گونجتا۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے، خوشی کا جشن مناتے اور اجنبی بھی قریبی دوست بن جاتے۔
لیکن خوشیوں کا یہ تہوار وقت کے ساتھ ایک مہلک کھیل میں بدل گیا۔ شیشے اور کیمیکل والے دھاگے، غیر محتاط مقابلے، اور جیت کی شدت نے بسنت کو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنا دیا۔ موٹر سائیکل سوار، راہگیر، بچے اور پرندے—سب اس غیر ذمہ دارانہ کھیل کا شکار بن گئے۔ صرف لاہور میں ہر سال درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
نتیجتاً 2007 میں حکومت نے بسنت پر پابندی عائد کی۔ ایک طرف یہ جان کی حفاظت کے لیے ضروری تھا، مگر دوسری طرف ہزاروں خاندان، پتنگ ساز، دھاگہ بنانے والے اور چھوٹے کاروبار ماند پڑ گئے۔ بسنت کی بندش نے ایک پوری ثقافتی اور معاشی دنیا کو سناٹا دے دیا۔
وقت نے صورتحال بدل دی۔ 2025 میں حکومت نے ایک حقیقت تسلیم کی: کسی روایت کو دفن کرنا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ بسنت کو محفوظ، کنٹرولڈ اور قانون کے تحت دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔ مخصوص دن، مخصوص مقامات، دھاگے اور پتنگوں کی رجسٹریشن، شیشے اور کیمیکل والی ڈور پر مکمل پابندی اور سخت جرمانے—یہ نئے اصول ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا بسنت واقعی محفوظ ہو سکے گی؟ صرف قانون کافی نہیں۔ حفاظتی اقدامات، بچوں کی نگرانی، شاہراہوں اور بجلی کی تاروں کے قریب پابندی، آگاہی مہم اور عوامی شعور لازمی ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ تفریح کی حد وہیں ختم ہوتی ہے جہاں کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔
بسنت ہماری ثقافت کا حسن ہے، لیکن جان سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں۔ اگر ہم لالچ، ضد اور غیر ذمہ داری پر قابو پا لیں، تو بسنت دوبارہ خوشیوں، رنگوں اور زندگی کا جشن بن سکتی ہے—مگر اگر ہم محتاط نہ ہوئے، تو تاریخ اپنے سبق کو بار بار دہرا سکتی ہے۔
بسنت کی پرواز اب ہمارے ہاتھ میں ہے—کیا ہم اسے خوشیوں کا تہوار بنائیں گے یا ایک اور خطرناک روایت؟









