ایران سے وینزویلا تک: طاقت، خودمختاری اور عالمی سیاست

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو دنیا میں امن قائم کرنے والا رہنما قرار دیتے رہے ہیں، لیکن نئے سال کے آغاز پر اُن کے بیانات اور اقدامات نے ایک مختلف تصویر پیش کی۔ ایک طرف وہ جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو دوسری طرف مختلف ممالک کو کھلی دھمکیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران اور وینزویلا اس پالیسی کی نمایاں مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔
ایران: داخلی مسائل اور بیرونی دباؤ
ایران میں گزشتہ ہفتوں کے دوران مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ یہ مظاہرے بنیادی طور پر معاشی نوعیت کے تھے، جو کسی بھی خودمختار ملک کا اندرونی معاملہ سمجھے جاتے ہیں۔ جہاں کہیں احتجاج قانون سے تجاوز کرتا دکھائی دیا، وہاں ریاستی اداروں نے مداخلت کی۔
اسی تناظر میں امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ اگر ایرانی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی تو امریکہ براہِ راست مداخلت کرے گا۔ اس بیان پر ایرانی قیادت نے سخت ردعمل دیا اور واضح کیا کہ ملک کی سلامتی پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ معاشی مشکلات حقیقت ہیں اور حکومت انہیں تسلیم کرتی ہے، لیکن ان مسائل کا حل بیرونی مداخلت نہیں بلکہ اندرونی اصلاحات ہیں۔ ایران کے اعلیٰ رہنماؤں نے یہ بھی واضح کیا کہ احتجاج عوام کا حق ہے، مگر بدامنی اور تشدد قابلِ قبول نہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اُس کی معیشت پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں، جن کے باعث تیل کی برآمدات اور ضروری درآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ عوام کی اکثریت ان مشکلات کی اصل وجہ انہی پابندیوں کو سمجھتی ہے۔
وینزویلا: ایک اور محاذ
ایران کے بعد امریکہ کی توجہ جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا پر مرکوز ہوئی۔ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ایک فوجی کارروائی کے ذریعے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اُن پر مختلف الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
اس اقدام کے بعد وینزویلا میں آئینی طریقے سے نائب صدر نے عبوری طور پر حکومت سنبھال لی، جبکہ امریکی کارروائی کو ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا۔ وینزویلا کی قیادت نے صدر اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ ملک کسی بیرونی طاقت کی کالونی بننے کے لیے تیار نہیں۔
عالمی ردعمل اور امریکی اندرونی تنقید
اس فوجی کارروائی پر نہ صرف دنیا کے کئی ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی آوازیں اٹھیں۔ سیاست دانوں، شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی خودمختار ملک کے داخلی مسائل کسی دوسری طاقت کو فوجی مداخلت کا حق دیتے ہیں؟
روس، چین، ایران، برازیل اور دیگر کئی ممالک نے اس اقدام کی مذمت کی، جبکہ لاطینی امریکہ میں امریکہ کی ماضی کی مداخلتوں کو بھی یاد دلایا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے میں امریکی مداخلت نے اکثر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔
اصولی سوال
یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے:
کیا معاشی بدحالی یا سیاسی بحران کسی طاقتور ملک کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ دوسرے ملک کی خودمختاری کو پامال کرے؟
اگر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصول اس طرح نظرانداز ہوتے رہے تو چھوٹے اور کمزور ممالک کے لیے سلامتی کا تصور بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ عالمی امن کا تقاضا یہی ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات، قانون اور عوامی رائے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
نتیجہ
ایران ہو یا وینزویلا، دونوں مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا آج بھی طاقت کی سیاست سے مکمل طور پر باہر نہیں آ سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کرے، تاکہ دنیا واقعی امن کی طرف بڑھ سکے، نہ کہ ایک نئے انتشار کی جانب۔









