اقلیت کا دکھ اور خاکروب کا سوال

کل ہی ہم نے سنا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاکروب کی نوکری کے اشتہار میں “صرف مسیحی” لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور حکم دیا کہ آئندہ “صرف شہری” لکھا جائے۔ یہ فیصلہ انصاف پسندی کی مثال ہے، کیونکہ خاکروب کا پیشہ کسی ایک مذہب یا فرقے کا نہیں ہوتا۔ خاکروب، نائب قاصد، ڈرائیور، افسر، وزیر یا کسان — سب کے کام برابر ہیں، نہ کوئی برتر ہے نہ کمتر۔
سوچیں اگر یہ معاملہ کسی غیرملکی ملک میں پیش آتا اور پاکستانی مسلمان اقلیت قرار پاتے، تو کیسا لگتا؟ یقیناً یہ غیر منصفانہ محسوس ہوتا، کیونکہ تمام شہری برابر ہیں۔ پاکستانی شہریوں کے ساتھ بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ مذہب یا نسل کی بنیاد پر کسی کو نوکری یا مواقع سے محروم کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ آئین کے بھی خلاف ہے۔
آئینِ پاکستان واضح ہے: تمام شہری برابر ہیں اور جنس، مذہب، نسل یا رنگ کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر خاکروب کے پیشے کو صرف ایک مذہب کے افراد کے لیے مخصوص کر دیا جائے، تو اس سے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ ایک غیرمسیحی شخص جو خاکروب بننے کے لیے تیار ہے، اسے صرف مذہب کی بنیاد پر موقع سے محروم کرنا ظلم ہے۔
یہی مسئلہ “اقلیت” کے لیبل کے ساتھ بھی ہے۔ ہمارے آئین میں آرٹیکل 25 سب شہریوں کی مساوات کی ضمانت دیتا ہے، اور آرٹیکل 36 اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ لیکن جب ہم مذہب کی بنیاد پر کسی گروہ کو اقلیت قرار دیتے ہیں، تو ہم آئین کی روح اور انسانیت کے اصول دونوں کے خلاف جا رہے ہیں۔ کل اگر کسی فرقے کی اکثریت ہو تو کیا دوسرے فرقوں کو اقلیت قرار دے دیں گے؟ یہ منطق اور انصاف دونوں کے خلاف ہے۔
اصل میں، پاکستان کی سب سے بڑی “اقلیت” وہ چند خاندان اور افراد ہیں جو اربوں کے مالک ہیں، دنیا کے مہنگے محلات میں رہتے ہیں، اپنے بچوں کو اوکسفورڈ اور ایچی سن جیسے اداروں میں پڑھاتے ہیں اور زندگی بھر سہولیات سے لطف اندوز رہتے ہیں۔ یہ وہ اقلیت ہے جو عام شہریوں سے الگ ہے، اور عوام کے درمیان فرق ڈال کر اپنی بقا برقرار رکھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مذہب یا نسل کی بنیاد پر بنائی جانے والی “اقلیتیں” محض عوامی ذہن میں بنائی گئی ہیں، تاکہ اصل طاقتور اقلیت کو نظر انداز کیا جا سکے۔
پاکستان تب مثالی ملک بنے گا جب ہر شہری ہر لحاظ سے برابر ہو گا، اور مذہب یا نسل کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا۔ خاکروب کی نوکری ہو یا سیاست، تعلیم یا کاروبار — ہر شعبے میں سب کو یکساں مواقع ملیں، تب ہی ہم انصاف کی صحیح مثال قائم کر سکیں گے۔









