افغانستان میں بھارت کی بڑھتی مداخلت اور پاکستان کے لیے چیلنجز

افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں میں اضافہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی پاکستان کی مغربی سرحد کو عدم استحکام کا شکار کرکے اپنی علاقائی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کا مقصد نہ صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے بلکہ وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر طاقت کا توازن بدلنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال چیلنجز پیدا کرتی ہے، کیونکہ ایک غیر مستحکم افغانستان براہ راست ہماری قومی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ افغانستان میں مثبت تعلقات قائم کرے اور سرحدی انتظام کو مضبوط بنائے۔ طالبان حکومت کے ساتھ اعتماد سازی اور مستحکم تعلقات پاکستان کے لیے نہ صرف دفاعی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان کو علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی حکمت عملی مرتب کرنی ہوگی۔
خطے میں امن اور استحکام کا تعلق صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا کی ترقی و خوشحالی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف افغان عوام کے لیے بلکہ پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ پاکستان نے ماضی میں ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے اور مختلف دور میں افغان عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد بھی کی ہے۔
چین کے ساتھ پاکستان کی مضبوط دوستی بھی اس معاملے میں ایک اہم عنصر ہے۔ سی پیک منصوبے اور دیگر اقتصادی اور سرمایہ کاری کے منصوبے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے امکانات کو بڑھا رہے ہیں۔ چین کی حمایت پاکستان کو عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی استحکام فراہم کرتی ہے، جو بھارت کے بڑھتے اثرورسوخ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
افغانستان میں بھارت کی مداخلت کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کو سیاسی اور دفاعی محاذ پر تنہا کرنا ہے۔ تاہم، پاکستان کی مضبوط خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات اس مہم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنا افغانستان کے اپنے مفاد میں نہیں ہوگا، کیونکہ یہ خطے میں غیر استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ عالمی مفادات اور جغرافیائی حکمت عملی کے ٹکراؤ سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مربوط اور مستحکم خارجہ پالیسی اپنائے تاکہ اپنی مغربی سرحد محفوظ اور مستحکم بنائی جا سکے۔ طالبان حکومت کی پالیسی افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ داعش، القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی موجودگی خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور پراکسی کھیلوں کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کو اپنی خارجہ اور علاقائی حکمت عملی مضبوط بنانی ہوگی۔ امن، تعاون اور اعتماد سازی ہی وہ راستے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔









