عباس عراقچی کی میکرون پر شدید تنقید

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملوں اور شہری ہلاکتوں کے معاملے پر ان کی خاموشی افسوسناک ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہران میں ایندھن کے ذخائر پر حملوں کے نتیجے میں لاکھوں شہری مضر اثرات سے متاثر ہوئے، مگر اس پر بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باوجود بھی عالمی رہنماؤں کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی، لیکن جب ایران نے جوابی کارروائی کی تو تشویش کا اظہار کیا جانے لگا، جو ایک غیر متوازن طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فرانسیسی صدر نے ایران اور قطر میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ توانائی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور انہیں عسکری کشیدگی سے دور رکھا جانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تنازع اب کئی اہم تنصیبات تک پھیل چکا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں تیل و گیس تنصیبات پر میزائل حملے کیے۔
ماہرین کے مطابق اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ قیمتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









