امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی حکمتِ عملی پر نئے آپشنز زیر غور

0
44
امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی حکمتِ عملی پر نئے آپشنز زیر غور

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے مختلف منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد خطے میں امریکی مفادات، سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل کے اہم مراکز کو محفوظ بنانا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں ہزاروں اضافی فوجیوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، جس کے ذریعے امریکا کو ایران کے خلاف ممکنہ مزید کارروائیوں کے لیے مختلف آپشنز فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ صورتحال کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک اہم توجہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے پر ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی اور بحری وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میں زمینی موجودگی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں ایران کے تیل برآمدی نظام کے مرکزی مقام خارگ جزیرے کے حوالے سے بھی مختلف عسکری آپشنز زیر بحث ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ سنبھالتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہاں کسی بھی براہِ راست زمینی کارروائی کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایران کے پاس وہاں میزائل اور ڈرون صلاحیت موجود ہے۔
مزید یہ کہ امریکی حکام ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر تک رسائی یا انہیں محفوظ بنانے کے ممکنہ منصوبوں پر بھی غور کر رہے ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت پیچیدہ اور حساس نوعیت کا آپریشن ہوگا جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے تاحال ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

Leave a reply