وائٹ ہاؤس میں ہنگامی مشاورت، ایران کے خلاف فوجی آپشن میز پر

0
26
وائٹ ہاؤس میں ہنگامی مشاورت، ایران کے خلاف فوجی آپشن میز پر

امریکی ذرائع ابلاغ کی تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ چند دن اس حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی اور بحری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور افواج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے نجی سطح پر ممکنہ کارروائی کے حق اور مخالفت میں دلائل کا جائزہ لیا ہے اور قومی سلامتی کے مشیروں و اتحادی ممالک سے مشاورت جاری ہے۔
بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی موقع پر صدر کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر نے ایران کے ساتھ ہونے والی بالواسطہ سفارتی بات چیت پر بریفنگ دی۔
یہ رابطے جنیوا میں ہوئے جہاں ایرانی اور امریکی نمائندوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک پیغامات کے تبادلے کے ذریعے گفتگو جاری رہی۔ اگرچہ کچھ رہنما نکات پر ابتدائی اتفاق رائے کی اطلاعات ہیں، تاہم متعدد امور پر پیش رفت باقی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ سفارت کاری صدر کی اولین ترجیح ہے، لیکن دیگر آپشنز بھی زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق ایران آئندہ ہفتوں میں اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرے گا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ فروری کو اسرائیل کا دورہ کریں گے، جہاں وہ وزیر اعظم سے ملاقات میں ایران سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بحری بیڑہ بھی خطے کی جانب پیش قدمی کر سکتا ہے، جبکہ برطانیہ میں تعینات امریکی فضائیہ کے طیاروں کو بھی مشرقِ وسطیٰ کے قریب منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اپنی جوہری تنصیبات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ بعض تحقیقی اداروں کی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اہم مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، تاہم حالیہ فوجی تیاریوں اور بیانات نے خطے میں کشیدگی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ حتمی فیصلہ صدر کے اختیار میں ہے اور آئندہ چند دن صورتحال کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

Leave a reply