
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نجی ٹی وی چینلز پر رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی ڈراموں کی روایت مضبوط ہو چکی ہے۔ ہر سال مختلف چینلز اس مقدس مہینے میں ہلکے پھلکے، رومانوی اور مزاحیہ کہانیوں پر مبنی ڈرامے پیش کرتے ہیں جو ناظرین کی توجہ حاصل کرتے ہیں اور ریٹنگ میں بھی نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں۔
اسی پلیٹ فارم سے کئی فنکاروں کو غیر معمولی شہرت ملی، جن میں فرحان سعید اور اقرا عزیز بھی شامل ہیں، جنہوں نے رمضان ڈراموں کے ذریعے گھریلو ناظرین میں خاص مقام بنایا۔
سال 2026 میں بھی مختلف چینلز نئے رمضان ڈرامے نشر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جاری کیے گئے ٹیزرز میں رنگا رنگ مناظر، خوشگوار ماحول، رقص اور ہلکے پھلکے رومانوی لمحات دکھائے گئے ہیں، جنہیں تفریحی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر ان ڈراموں کے موضوعات اور انداز پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ متعدد صارفین کا مؤقف ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں نشر ہونے والے پروگراموں کا مرکز عبادت، اخلاقیات اور مثبت اقدار ہونی چاہئیں۔ ناقدین کے مطابق بعض ڈراموں میں موسیقی، رقص اور غیر سنجیدہ کہانیوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جو رمضان کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض کہانیوں میں نامناسب تعلقات کو معمول کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو معاشرتی سطح پر تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ چند افراد نے ناظرین سے اپیل بھی کی کہ وہ ایسے پروگراموں کو ریٹنگ نہ دیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام کسی مواد کو دیکھنا بند کر دیں تو چینلز اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ رمضان ڈرامے بنیادی طور پر خاندانی تفریح فراہم کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں مکمل طور پر مذہبی پروگرام سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق ناظرین کو اپنی پسند کے مطابق مواد منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ رواں برس رمضان ڈراموں کے موضوع، پیشکش اور معیار پر مکالمہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے، اور امکان ہے کہ یہ گفتگو آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گی۔









