
پنجاب حکومت نے پولیس نظام میں اصلاحات کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اسٹیشنوں کے باہر شہری شکایات کے فوری ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کیے جائیں گے اور ہر تھانے کے 10 اہلکاروں پر باڈی کیم لگائی جائے گی۔ اس اقدام کے تحت پنجاب بھر میں تقریباً 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولیس سے متعلق شکایات کو دو سے تین گھنٹے کے اندر حل کیا جائے گا اور ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرائی جائے گی۔ پولیس اہلکار شہریوں سے بات کرتے وقت ہمیشہ ‘سر’ یا ‘جناب’ استعمال کریں گے، اور شاباش یا سزا کے فیصلے عوام کے سامنے کیے جائیں گے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پولیس سے صرف مجرمین کو ڈرنا چاہیے، عوام کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہ اپنی مشکل میں پولیس سے مدد حاصل کرنے کے قابل ہوں۔ خواتین کی حفاظت کو خاص ترجیح دی گئی ہے اور کسی خاتون کی شکایت پر تذلیل کی بجائے حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے گی۔
پنجاب میں پولیس اصلاحات کو تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کے لیے مختصر، وسط اور طویل مدت کی حکمت عملی تیار کی جائے گی تاکہ قانون کی سختی سے پابندی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔









