موت کے بعد سوشل میڈیا: کیااے آئی آن لائن موجودگی کو زندہ رکھ سکتی ہے؟

0
31
موت کے بعد سوشل میڈیا: کیااے آئی آن لائن موجودگی کو زندہ رکھ سکتی ہے؟

انسان صدیوں سے یہ سوچتا آیا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوتا ہے، لیکن آج ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نیا سوال سامنے آیا ہے: اگر کوئی شخص دنیا سے چلا جائے تو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا کیا ہوگا؟
حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ ایک بڑی ٹیک کمپنی نے ایسا پیٹنٹ حاصل کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی شخص کی آن لائن موجودگی کو اس کے نہ ہونے کے باوجود برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ نظام صارف کی پچھلی پوسٹس، تبصرے، لائکس اور دیگر آن لائن سرگرمیوں سے سیکھ کر اس کے انداز اور رویے کو نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح اگر کوئی شخص اچانک غائب ہو جائے یا وفات پا جائے تو اے آئی اس کے انداز میں مواد پوسٹ کر سکتا ہے، تبصرے کر سکتا ہے یا ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس طرح کا نظام دوستوں اور فالوورز کے لیے خلا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی عزیز کی غیر موجودگی جذباتی اور سماجی اثر ڈال سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس تصور کو عام طور پر “گریف ٹیک” کہا جاتا ہے، جس میں ایسے سافٹ ویئر یا سروسز شامل ہیں جو مرحوم افراد کی یاد کو ڈیجیٹل انداز میں محفوظ رکھنے یا ان کی شخصیت کی نقل تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس میدان میں مائیکروسافٹ اور دیگر نجی کمپنیاں بھی کام کر چکی ہیں، جنہوں نے ورچوئل چیٹ بوٹس تیار کیے ہیں جو مرحوم افراد کی یاد میں بات چیت ممکن بناتے ہیں۔
تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اخلاقی اور قانونی سوالات بھی پیدا کر سکتی ہے: کیا کسی شخص کی وفات کے بعد اس کی ڈیجیٹل شناخت برقرار رکھنا درست ہے؟ کیا اہل خانہ کی اجازت ضروری ہوگی؟ اور کیا حقیقی اور مصنوعی کے درمیان فرق مزید دھندلا نہیں ہو جائے گا؟
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ابھی اس پیٹنٹ کو عملی طور پر استعمال میں لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اکثر ٹیکنالوجی کمپنیز ایسے خیالات کے لیے پیٹنٹس حاصل کرتی ہیں جو بعد میں استعمال میں لائے جا سکتے ہیں، مگر لازماً نہیں کہ ہر پیٹنٹ مستقبل کی پالیسی کی عکاسی کرے۔
یہ خبر اس بات کی جھلک دیتی ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت نہ صرف روزمرہ کے کام بلکہ انسانی یادوں اور جذبات سے بھی جڑ سکتی ہے۔ آیا موت کے بعد بھی سوشل میڈیا پر کسی کی “ڈیجیٹل موجودگی” ممکن ہوگی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Leave a reply