لاہور میں خفیہ ملاقات! سیکیورٹی حکام کا اپوزیشن پر سخت ردعمل

0
36
لاہور میں خفیہ ملاقات! سیکیورٹی حکام کا اپوزیشن پر سخت ردعمل

لاہور میں ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے میڈیا نمائندگان سے ملاقات کی جس میں ملکی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور حالیہ سیاسی بیانات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران سیکیورٹی حکام نے اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں لگائے گئے الزامات اور اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے افسوسناک اور حقائق کے منافی قرار دیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کسی سیاسی عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور مذاکرات ان کا جمہوری حق ہے جبکہ قانونی معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے تحت عدالتیں کرتی ہیں۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ فوج اور عوام کے درمیان تعلق باہمی اعتماد پر مبنی ہے اور کوئی بھی بیان یا بیانیہ اس رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل سمیت مختلف طبقات کی جانب سے افواج پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اس اعتماد کا مظہر ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم ہونے کے بجائے متحد رہ کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خاتمے کی بنیادی حکمت عملی ہے اور حالیہ مشاورتی اجلاس مثبت پیش رفت ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے بعض واقعات کے پیچھے بیرونی عناصر کا کردار موجود ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ صوبے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں جس سے غیر قانونی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قومی سطح پر اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

Leave a reply