نیپرا کے نئے ضوابط پر ہنگامی اجلاس، موجودہ معاہدوں کے تحفظ کی ہدایت

0
42
نیپرا کے نئے ضوابط پر ہنگامی اجلاس، موجودہ معاہدوں کے تحفظ کی ہدایت

حکومتِ پاکستان نے سولر توانائی کے شعبے میں جاری تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نظرثانی درخواست دائر کی جائے، تاکہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں کو زیادہ سے زیادہ قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے نظام کو مرحلہ وار نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔
پس منظر: نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ تک
حالیہ برسوں میں پاکستان میں سولر توانائی کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ لاکھوں صارفین نے اپنی چھتوں پر سولر پینلز نصب کر کے نہ صرف اپنے بجلی کے اخراجات کم کیے بلکہ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کر کے بلوں میں ایڈجسٹمنٹ بھی حاصل کی۔
نیٹ میٹرنگ کے نظام کے تحت صارف اپنی پیدا کردہ اضافی بجلی گرڈ کو دے کر اسی حساب سے یونٹس ایڈجسٹ کرا سکتا تھا۔ تاہم پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت اس نظام کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں بجلی کی خرید و فروخت کا حساب مختلف طریقہ کار سے ہوگا۔
یہ تبدیلی بظاہر توانائی کے نظام میں توازن پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، مگر اس نے موجودہ سولر صارفین میں خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت: موجودہ معاہدوں کا تحفظ
اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں توانائی کے شعبے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے واضح ہدایت دی کہ:
موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے
ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جس سے 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا مالی بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ دیگر بجلی صارفین پر منتقل نہ ہو
حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے نظام میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی ایک طبقے پر غیر متناسب بوجھ نہ پڑے۔

Leave a reply