نیو اسٹارٹ معاہدے کے ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ بڑھ گیا

دنیا کی دو بڑی طاقتیں، امریکا اور روس، اب ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے کسی پابند معاہدے کے تحت نہیں ہیں کیونکہ مشہور معاہدہ ‘نیو اسٹارٹ’ 5 فروری کو ختم ہو گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہ رکھنے کے پابند تھے اور ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ کر کے شفافیت یقینی بناتے تھے۔
نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں طے پایا تھا تاکہ عالمی سطح پر بڑی ایٹمی جنگ کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ اس سے قبل 1991 میں طے پانے والے پہلے معاہدے میں ایٹمی ہتھیاروں کی حد 6000 رکھی گئی تھی، جو بعد میں کم کر کے موجودہ سطح تک لائی گئی۔
روس کے صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امن قائم رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، لیکن روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ معاہدے کی پابندی میں نہیں ہیں اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ آزادانہ طور پر کریں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے مطابق روس کے پاس تقریباً 5459 اور امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے ختم ہونے سے دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکیں گے، جس سے تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک سے فوری طور پر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں پر ہیں، جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔









