اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کا انضمام: مصنوعی ذہانت اور خلا کے شعبے میں نیا موڑ

0
54
اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کا انضمام: مصنوعی ذہانت اور خلا کے شعبے میں نیا موڑ

ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ ادارے ایکس اے آئی کو اپنی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق کو ایک مربوط نظام کے تحت آگے بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔
اس انضمام کے نتیجے میں اسپیس ایکس کو ایکس اے آئی کی تیار کردہ جدید اے آئی صلاحیتوں اور چیٹ بوٹ ’’گروک‘‘ تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی، جس سے خلائی مشنز، ڈیٹا اینالیسس اور خودکار نظاموں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
معاملے سے واقف حلقوں کے مطابق اس معاہدے میں اسپیس ایکس کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے، جبکہ ایکس اے آئی کی قدر کا تخمینہ تقریباً 250 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ طے شدہ شرائط کے تحت ایکس اے آئی کے سرمایہ کاروں کو اپنے حصص کے بدلے اسپیس ایکس کے حصص دیے جائیں گے، جبکہ چند سینئر عہدیداروں کو نقد ادائیگی کا انتخاب بھی دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انضمام کے بعد مشترکہ ادارے کے حصص کی ممکنہ قیمت 500 ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ مالیاتی ماہرین اس سودے کو عالمی سطح پر اب تک کے سب سے بڑے انضمام و حصول کے معاہدوں میں شمار کر رہے ہیں، جس نے دو دہائیاں پرانا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم اسپیس ایکس کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کے میدان میں مزید مستحکم بنا سکتا ہے، جہاں اسے پہلے ہی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ایلون مسک نے اس موقع پر اپنے مختصر بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ محض ایک کاروباری توسیع نہیں بلکہ سائنسی جستجو کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا ہدف انسان کی فہم اور رسائی کو کائنات کی وسعتوں تک لے جانا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسپیس ایکس مستقبل قریب میں عوامی سطح پر حصص کی فروخت پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ چونکہ اسپیس ایکس کے امریکی حکومتی اور دفاعی اداروں کے ساتھ اہم معاہدے موجود ہیں، اس لیے اس انضمام پر ریگولیٹری اداروں کی جانب سے گہری نظر رکھی جا سکتی ہے۔
اگرچہ دونوں کمپنیوں کی جانب سے اس مرحلے پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم یہ انضمام عالمی ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Leave a reply