دہشتگردی کا کوئی صوبہ یا ملک نہیں ہوتا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

0
75
دہشتگردی کا کوئی صوبہ یا ملک نہیں ہوتا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے حالیہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کی بہنوں سے ملاقات سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے لیے مختص فنڈز طویل عرصے سے التوا کا شکار تھے، جن میں سے 26 ارب روپے کی فوری فراہمی کے لیے وزیراعظم نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام نے ملک کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ایسے علاقوں کے لیے 4 ارب روپے کی رقم ان قربانیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان کے مطابق مالی اعداد و شمار کو عوام کی قربانیوں سے جوڑنا مناسب نہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اس بات کی تردید کی کہ وزیراعظم سے ملاقات میں کسی سیاسی موضوع یا بانی پی ٹی آئی سے متعلق امور زیرِ بحث آئے ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاقات مکمل طور پر صوبائی اور انتظامی معاملات تک محدود رہی۔
دہشتگردی سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کا تعلق کسی ایک صوبے یا ملک سے نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق عید کے بعد وزیراعظم سے دوبارہ ملاقات متوقع ہے جس میں دہشتگردی کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر پہلے بھی اپنا مؤقف کھل کر پیش کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

Leave a reply