سانحہ گل پلازہ: تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے تضادات، اصل حقائق کہاں غائب؟

0
43
سانحہ گل پلازہ: تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے تضادات، اصل حقائق کہاں غائب؟

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے سے متعلق کمشنر کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد متعدد سوالات اور تضادات سامنے آ گئے ہیں۔ رپورٹ میں بعض اہم پہلوؤں کا ذکر نہیں کیا گیا، جس پر عجلت میں رپورٹ تیار کیے جانے یا حقائق چھپانے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ 10 بج کر 15 منٹ پر لگی، جبکہ فائر بریگیڈ کو اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر دی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اطلاع ملنے کے 11 منٹ بعد، یعنی 10 بج کر 37 منٹ پر پہلا فائر ٹینڈر موقع پر پہنچا، حالانکہ متعلقہ فائر اسٹیشن گل پلازہ سے صرف پانچ منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔
متاثرین کے مطابق پہلے پہنچنے والے فائر ٹینڈر کا پانی تقریباً 20 منٹ میں ختم ہو گیا تھا اور بعض فائر ٹینڈرز میں ایندھن کی کمی بھی سامنے آئی، تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں پانی یا ڈیزل کی قلت کا کوئی ذکر شامل نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈبل ون اور ڈبل ٹو کا عملہ 10 بج کر 53 منٹ پر پہنچا، یعنی تقریباً آدھے گھنٹے کی تاخیر سے۔ اس تاخیر اور آگ کی شدت میں اضافے کی وجوہات پر رپورٹ میں کوئی واضح وضاحت موجود نہیں ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ریسکیو عملہ غیر تربیت یافتہ اور خوفزدہ دکھائی دیتا تھا اور عمارت کے اندر داخل ہونے میں ناکام رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈبل ون اور ڈبل ٹو کے عملے نے کھڑکیاں یا دیواریں توڑ کر متاثرین کو نکالنے کی مؤثر کوشش نہیں کی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ریسکیو کارروائی کے دوران ناکامیوں، تاخیر اور عملی کمزوریوں کی وجوہات پر بھی تفصیلی روشنی نہیں ڈالی گئی، جس کے باعث سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا رپورٹ جلد بازی میں تیار کی گئی، جان بوجھ کر نامکمل رکھی گئی یا کسی فرد یا ادارے کو بچانے کے لیے اہم حقائق کو نظرانداز کیا گیا۔
سانحہ گل پلازہ سے متعلق شفاف اور جامع تحقیقات کے مطالبے میں شدت آتی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات ممکن ہو سکیں۔

Leave a reply