گل پلازہ آتشزدگی: تحقیقاتی رپورٹ مکمل، آگ لگنے کی وجہ سامنے آ گئی

0
55
گل پلازہ آتشزدگی: تحقیقاتی رپورٹ مکمل، آگ لگنے کی وجہ سامنے آ گئی

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کا آغاز ایک بچے کی لاپرواہی کے باعث گراؤنڈ فلور پر قائم فلاور شاپ سے ہوا۔
یہ تحقیق کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے کی، جس میں آتشزدگی کی وجوہات، فائر فائٹنگ کے انتظامات، ریسکیو سرگرمیوں اور متاثرین کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں ریسکیو اداروں اور عینی شاہدین کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق 17 جنوری کو رات 10 بج کر 15 منٹ پر پلازہ کے گراؤنڈ فلور میں آگ بھڑکی، جبکہ فائر بریگیڈ کو اس کی اطلاع 11 منٹ بعد دی گئی۔ پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 37 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا، اس دوران ڈپٹی کمشنر جنوبی پہلے ہی پلازہ میں موجود تھے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم 10 بج کر 53 منٹ پر پہنچی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ نے ایئر کنڈیشننگ ڈکٹس کے ذریعے انتہائی تیزی سے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
اس افسوسناک واقعے میں مجموعی طور پر 79 افراد جان سے گئے، جن میں بڑی تعداد میزنائن فلور پر موجود افراد کی تھی۔ رپورٹ میں ریسکیو آپریشن کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور آگ کے پھیلاؤ کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
سانحے کے بعد عمارت میں سرچ اور ملبہ ہٹانے کا عمل روک دیا گیا ہے اور عمارت کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو ماہرین کی رائے سے عمارت کو گرانے یا محفوظ بنانے کا فیصلہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اب بھی 49 افراد لاپتہ ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات ہے اور عمارت کو گرین شیڈ لگا کر محفوظ کیا گیا ہے۔
لاپتہ افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 55 سے زائد سیمپلز لیے جا چکے ہیں، جن میں سے 24 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ بعض باقیات سے ڈی این اے حاصل کرنا مشکل ہونے کے باعث شناخت کا عمل مزید وقت لے سکتا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں اور متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور متاثرہ عمارت کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کریں۔ عمارت سے متعلق حتمی فیصلہ ایس بی سی اے کے ماہرین کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔

Leave a reply