تنقید کا درمیانی راستہ ختم

تنقید کا درمیانی راستہ ختم

تحریر:محمد خالد

تحمل اور رواداری کی فضائیں ہمارے ہاں اب بالکل معدوم ہو چکی ہیں۔ یا تو آپ کسی لیڈر یا حکمران کے پُرجوش حامی ہیں، یا پھر ان کے مخالف۔ درمیانی راستہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ہر تنقید یا اعتراض کو فوری طور پر کسی پارٹی یا گروہ کے ایجنٹ کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔
اگر آپ آج بازار جائیں اور آٹا اور چینی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس پر انگلی اٹھائی جائے؟ چار سال کی حکمرانی کے بعد بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ گنے اور گندم کی فصل گزشتہ حکومت کے دور میں نکلی تھی، یا موجودہ حکمرانوں کی پالیسی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
اخبار روزانہ کی بنیاد پر طلوع و غروب ہوتا ہے۔ آج کی خبر کل کے کباڑ میں شامل ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ کالم نگار جو ملک کے حالات پر لکھنے کی جرات کرتے ہیں، انہیں ہمیشہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کسی دورِ حکومت کے “حوصلہ افزا منصوبوں” پر تو کبھی موجودہ حکومت کی خامیوں پر قلم اٹھانے پر۔
ملکی معیشت کی صورتحال بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی یونٹس بند ہو رہے ہیں، روزگار کی کمی بڑھ رہی ہے اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فنانس ڈپارٹمنٹ کے مطابق 2024-25 میں بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد ہو گئی، جبکہ 2018-19 سے 2022-23 کے دوران یہ شرح 6.3 سے 6.8 فیصد کے درمیان رہی۔ حالیہ صنعتی بندشوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملک چھوڑنے کے اثرات اب عوام کی روزمرہ زندگی میں براہِ راست نظر آ رہے ہیں۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کی صورتحال بدترین ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران تقریباً 100 یونٹس بند ہو چکے ہیں، جس سے کم از کم 50 ہزار افراد بیروزگار ہو گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے کپاس اور جننگ کے گڑھ بھی خالی ہو چکے ہیں، پانچ سو کے قریب جننگ فیکٹریاں بند ہیں۔ کسان اپنی پیداوار بیچ کر تباہ ہو رہا ہے، اور عوام کو سستی گندم تک نہیں ملی۔ ذخیرہ اندوز اپنے مزے لوٹ رہے ہیں، اور حکومتی بینرز اور رنگدار پتنگیں ایک ایسے تضاد کی تصویر پیش کر رہی ہیں جو حالات کی سنگینی سے الگ لگتی ہے۔
اس سب کے باوجود، کالم نگار مطمئن ہیں کہ حقیقت بیان کرنا اپنا فرض ہے۔ دلیل اور حقائق کو نظر انداز کرنے والوں کے لیے کوئی منطق کام نہیں آتی، مگر عوام تک حقیقت پہنچانا ضروری ہے۔ اور یہی صحافت کی اصل روح ہے: حالات کے گہرے پہلو دکھانا، چاہے یہ کسی کے لیے پسندیدہ نہ ہوں۔

Leave a reply