شبِ معراج: ایمان افروز سفر، عظیم معجزہ اور امت کے لیے پیغام

شبِ معراج: ایمان افروز سفر، عظیم معجزہ اور امت کے لیے پیغام

تحریر:ثمینہ رضوان

اے ایمان والو!
ذرا ٹھہرو… ذرا سوچو… ذرا دل پر ہاتھ رکھو…
یہ کوئی عام رات نہیں تھی، یہ وہ رات تھی جب زمین خاموش تھی، آسمان سجے ہوئے تھے، فرشتے صفیں باندھے کھڑے تھے، اور ربِ کائنات اپنے محبوب کو بلا رہا تھا۔
یہ شبِ معراج تھی…
یہ وہ رات تھی جب محمد ﷺ کو تنہا نہیں چھوڑا گیا، بلکہ عزت، قرب اور نور کے ساتھ بلایا گیا۔
جب محبوب ﷺ کے آنسو زمین پر گرے
یہ وہ وقت تھا جب رسولِ رحمت ﷺ غموں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
خدیجہؓ جیسی رفیقۂ حیات دنیا سے جا چکی تھیں،
ابو طالبؓ جیسا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا،
طائف کی گلیوں میں لہو بہا دیا گیا تھا،
اور مکہ کی سرزمین تنگ ہو چکی تھی۔
اے سننے والو!
جب محبوب ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو زمین نے وفا نہ کی، مگر آسمان نے پکارا:
اے محمد ﷺ! آ جاؤ… تم ہمارے ہو۔
وہ سفر جس کی مثال نہیں
نہ کوئی جہاز، نہ کوئی راکٹ،
براق آیا، جبرئیلؑ ساتھ تھے،
اور ایک ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر طے ہوا۔
مسجدِ اقصیٰ میں کیا منظر تھا؟
تمام انبیاء صفیں باندھے کھڑے ہیں،
اور امامت محمد ﷺ کر رہے ہیں۔
اے امت!
یہ اعلان تھا کہ تمہارا نبی سب کا امام ہے۔
آسمانوں پر وہ ملاقاتیں
ایک ایک آسمان پر انبیاء کھڑے ہیں،
کوئی مسکرا رہا ہے، کوئی دعا دے رہا ہے،
اور سب کہہ رہے ہیں:
مرحبا اے آخری نبی ﷺ!
اور پھر وہ مقام آیا…
جہاں جبرئیلؑ رک گئے،
جہاں عقل جواب دے گئی،
جہاں فرشتوں کی پرواز ختم ہو گئی۔
اے سننے والو!
وہاں محمد ﷺ اکیلے گئے…
وہاں بندہ اپنے رب کے سامنے تھا۔
نماز — اللہ کا تحفہ، امت کا امتحان
وہاں کوئی دولت نہیں ملی،
کوئی تاج نہیں ملا،
کوئی تخت نہیں دیا گیا۔
وہاں نماز ملی۔
پچاس نمازیں فرض ہوئیں،
پھر رحمت چھلکی،
پانچ رہ گئیں،
مگر ثواب پچاس کا۔
اے غافل انسان!
یہ نماز بوجھ نہیں،
یہ تو معراج ہے۔
مگر افسوس!
ہم معراج کی رات کو مانتے ہیں،
اور نماز کو چھوڑ دیتے ہیں۔
آج محمد ﷺ ہم سے سوال کرتے ہیں
کل قیامت کے دن رسول ﷺ پوچھیں گے:
میں آسمانوں سے نماز لایا تھا، تم نے اسے کہاں رکھا؟
اے امت!
تم نے دنیا کے لیے وقت نکالا،
گناہوں کے لیے وقت نکالا،
مگر سجدے کے لیے وقت نہ نکالا؟
شبِ معراج کی پکار
یہ رات آج بھی پکارتی ہے:
اے ٹوٹے دل والے! تیرا رب قریب ہے
اے گناہ گار! توبہ کا دروازہ کھلا ہے
اے نمازی! ثابت قدم رہ
اور اے بے نمازی! لوٹ آ، ابھی وقت ہے
کیسے گزارو اس رات کو؟
شور سے نہیں،
آتش بازی سے نہیں،
صرف ایک جائے نماز،
بھیگی آنکھیں،
اور ٹوٹا ہوا دل کافی ہے۔
دو رکعت نفل
سچے آنسو
درودِ پاک
اور پختہ وعدہ کہ نماز نہیں چھوڑوں گا
آخری صدا
اے سننے والو!
شبِ معراج ہمیں یہ بتانے آئی ہے:
جو رب کے سامنے جھک جاتا ہے، وہی رب کے ہاں بلند ہو جاتا ہے۔
آج اگر ہم نہ جاگے،
تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔
اللہ ہمیں سچی توبہ،
نماز کی پابندی،
اور عشقِ رسول ﷺ عطا فرمائے۔
آمین… آمین… یا رب العالمین۔

Leave a reply