کشمیر میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی منظوری منسوخ، مسلم طلبہ کے داخلے پر تنازع

0
91
کشمیر میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی منظوری منسوخ، مسلم طلبہ کے داخلے پر تنازع

سری نگر: بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی منظوری منسوخ کیے جانے کے بعد تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ ادارے میں داخلہ لینے والے طلبہ کی اکثریت مسلمان تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے 6 جنوری کو ضلع ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی منظوری واپس لے لی۔ یہ ادارہ پیر پنجال کے پہاڑی علاقے میں قائم ہے، جو جموں اور وادی کشمیر کے درمیان واقع ہے۔
ادارے میں حال ہی میں ایم بی بی ایس کے پانچ سالہ پروگرام کے لیے 50 طلبہ کو داخلہ دیا گیا تھا، جن میں سے 42 کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم شامل تھا۔ طلبہ کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا تھا، تاہم مسلم طلبہ کی بڑی تعداد پر دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی جانب سے اعتراضات اور احتجاج سامنے آئے۔
رپورٹس کے مطابق بعض ہندو انتہا پسند گروپس اور سیاسی شخصیات نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہندو عطیات سے چلنے والے ادارے میں مسلمانوں کو داخلہ نہیں ملنا چاہیے۔ احتجاج کے بعد ریگولیٹری ادارے نے انفراسٹرکچر کی کمی کو جواز بناتے ہوئے کالج کی منظوری منسوخ کر دی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں درجنوں طلبہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں، کیونکہ ان کے لیے کسی متبادل میڈیکل کالج کا فوری انتظام نہیں کیا گیا۔
تعلیمی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں تعلیم کے شعبے پر مذہبی اور سیاسی دباؤ کے بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتیازی اور اقلیتوں کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر بھارتی زیرانتظام کشمیر میں مسلمانوں کو درپیش تعلیمی اور سماجی چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔

Leave a reply