ناکام نظام اور معصوم بچوں کی قربانی

یہ واقعات محض خبریں نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر لکھی ہوئی وہ سطریں ہیں جو ہم پڑھنا نہیں چاہتے۔ کبھی کراچی کے کسی محلے میں ایک معصوم بچہ کھلے سیوریج نالے میں گر کر ہماری لاپروائی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے، اور کبھی خانیوال کے مصروف بازار میں تین بچے اسی موت کے منہ میں جاتے جاتے بچ نکلتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک جگہ ماں کی گود ہمیشہ کے لیے خالی ہو گئی، اور دوسری جگہ قسمت نے چند لمحوں کی مہلت دے دی۔
یہ حادثات اتفاق نہیں، یہ ایک ایسے شہری نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو انسان سے پہلے فائل، بیان اور نوٹس کو اہم سمجھتا ہے۔ کراچی کے اس بچے کے سامنے ماں کا ہاتھ تھا، باپ کی بانہیں تھیں، مگر درمیان میں ایک کھلا نالہ تھا—ریاست کی بے حسی کی علامت۔ وہ نالہ صرف گندا پانی نہیں تھا، وہ ہماری ترجیحات کا گڑھا تھا، جس میں ایک معصوم زندگی دفن ہو گئی۔
ہر سانحے کے بعد وہی رسمی جملے سننے کو ملتے ہیں: “تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے”، “ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا”، “رپورٹ طلب کر لی گئی ہے”۔ مگر چند دن بعد سب کچھ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا پہلے تھا۔ نالے کھلے، سڑکیں ادھڑی ہوئی، اور شہری زندگی بے یار و مددگار۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جان کی قیمت صرف ایک پریس ریلیز تک محدود ہے؟
پاکستان کے بڑے شہروں میں کھلے نالے اب انفراسٹرکچر کا حصہ نہیں، بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکے ہیں۔ ہم سڑکوں کی خوبصورتی پر کروڑوں لگا دیتے ہیں، مگر حفاظتی جنگلے، ڈھکن اور وارننگ سسٹم “بعد میں” کی فہرست میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ یہ “بعد میں” اکثر کسی بچے کی زندگی کے بعد آتا ہے۔
اور پھر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں۔ کچے کے علاقے، جہاں ریاست برسوں سے اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ وہاں کے ڈاکو آج کل قسمت آزماتے نظر آتے ہیں۔ کبھی نیم سرکاری سرپرستی میں، اور اب کھلے عام “مین اسٹریم” ہونے کے خواب۔ جن لوگوں کو اسلحہ چلانے سے لے کر جدید جنگی حکمتِ عملی تک کا ہنر آتا ہے، جنہوں نے پولیس اور رینجرز کو آمنے سامنے للکارا، انہیں اگر بغیر ٹھوس ضمانتوں کے معافی اور مراعات دی گئیں تو یہ کہانی نئی نہیں ہو گی۔
تجربہ گواہ ہے: چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ ماضی میں بھی یہی ہوا—پرانا اسلحہ جمع کرایا گیا، تصویریں بنیں، امدادی رقوم ملیں، اور کچھ عرصے بعد وہی چہرے دوبارہ اسی دھندے میں واپس آ گئے۔ اگر اس بار بھی ایسا ہوا تو یہ صرف سیکیورٹی پالیسی کی ناکامی نہیں ہو گی، بلکہ ان شہریوں کے ساتھ کھلا مذاق ہو گا جو روز قانون کی پابندی کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست وقتی جذبات یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ٹھوس، سخت اور شفاف فیصلے کرے۔ اگر ڈاکوؤں کو قومی دھارے میں لانا ہے تو ان کے سرپرستوں کی بھاری ضمانتیں لی جائیں، واضح شرائط رکھی جائیں، اور خلاف ورزی کی صورت میں مثال بننے والی سزا ہو۔ سرکاری خزانہ کوئی خیرات نہیں کہ ہر بار آزمائے ہوئے ناکام نسخے پر لٹا دیا جائے۔
ایک قابلِ غور راستہ یہ بھی ہے کہ انہی علاقوں کے لوگوں پر مشتمل، سخت نگرانی میں ایک مقامی فورس تشکیل دی جائے۔ وہ زمین جانتے ہیں، راستے پہچانتے ہیں، اور ٹھکانوں سے واقف ہیں۔ اگر ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر انہیں واقعی امن قائم کرنے کا موقع دیا جائے، اور اس کے بعد فنی تعلیم، پنشن یا باعزت معاوضہ دیا جائے، تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو۔ مگر یہ سب صرف تب ممکن ہے جب نیت صاف اور عمل بے رحم حد تک واضح ہو۔
کراچی کا بچہ واپس نہیں آئے گا۔ اس کی ماں کا سناٹا اور باپ کی خاموشی اب ہمارے اجتماعی ماتم کا حصہ ہے۔ خانیوال کے بچے ہمیں ایک آخری موقع دے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع کو بھی ایک اور فائل، ایک اور نوٹس، ایک اور تقریر کی نذر کر دیں گے؟ یا واقعی یہ مان لیں گے کہ مسئلہ صرف نالے ڈھانپنے یا ڈاکوؤں سے معاہدے کرنے کا نہیں—یہ شہری زندگی کو محفوظ، باوقار اور بااعتماد بنانے کا سوال ہے۔
اور اس سوال کا جواب اب مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا۔









