
پاکستان کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات کے حوالے سے اہم پیش رفت کر رہا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے تاریخی اقدامات نے ملک کو عالمی سرمایہ کاروں اور ڈیجیٹل فنانس کی کمپنیوں کے لیے مرکز توجہ بنا دیا ہے۔
پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کو مستحکم بنانے کے لیے اتھارٹی نے فوری اور متحرک اقدامات کیے ہیں، جن میں نوجوانوں کے لیے منظم اور محفوظ کرپٹو استعمال کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب کی قیادت میں اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں سابق بائننس سی ای او چانگ پینگ ژاؤ اور بلاک چین پلیٹ فارم ٹرون (TRON) کے بانی جسٹن سن شامل تھے۔
چانگ پینگ ژاؤ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے کرپٹو ریگولیشن میں تیزی سے ترقی کی ہے اور نوجوانوں کے لیے محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے تین بڑے کرپٹو صارفین والے ممالک میں شامل ہے اور اسٹاک مارکیٹ کو ٹوکنائز کرنے سے عالمی سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مضبوطی ممکن ہوگی۔
جسٹن سن نے کہا کہ کرپٹو کی بدولت ہر شہری کے لیے آسان اور مساوی مالی رسائی ممکن ہوگی، اور پاکستان کا معاشی نظام زیادہ شفاف اور جدید ہو گا۔
یہ ملاقاتیں پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے فروغ اور عالمی کرپٹو کمیونٹی کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کرپٹو اقدامات غیر ملکی سرمایہ کاری، ریمیٹنس اور مالیاتی ذخائر میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔









