بھیک مانگنے پر مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی واپسی کا انکشاف

0
113
بھیک مانگنے پر مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی واپسی کا انکشاف

دنیا کے مختلف ممالک سے بھیک مانگنے کے الزام میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین آغا رفیع اللہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 51 ہزار پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے آف لوڈ یا ڈی پورٹ کیا گیا۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب سے واپس آنے والوں کی ہے، جہاں 24 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا گیا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار جبکہ آذربائیجان سے تقریباً ڈھائی ہزار پاکستانیوں کو اسی وجہ سے واپس بھیجا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ عمرہ کی آڑ میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افراد کو دستاویزی شواہد کی بنیاد پر ایئرپورٹس پر آف لوڈ کیا گیا، کیونکہ ان کے پاس یورپی ممالک کے سفری کاغذات موجود تھے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ رواں سال 24 ہزار افراد کمبوڈیا گئے جن میں سے 12 ہزار ابھی تک واپس نہیں آئے۔ اسی طرح برما سیاحتی ویزے پر جانے والے 4 ہزار افراد میں سے ڈھائی ہزار تاحال وطن واپس نہیں لوٹے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی سفر کی روک تھام کے اقدامات کے باعث پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ میں بہتری آئی ہے اور درجہ بندی 118 سے بڑھ کر 92 ہو گئی ہے۔ ماضی میں غیرقانونی امیگریشن کے حوالے سے پاکستان سرفہرست پانچ ممالک میں شامل تھا، تاہم نئی پالیسیوں کے بعد اب پاکستان اس فہرست سے باہر آ چکا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق گزشتہ سال 8 ہزار پاکستانی غیرقانونی طور پر یورپ گئے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد کم ہو کر 4 ہزار رہ گئی ہے۔ مجموعی طور پر اب تک 56 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دبئی اور جرمنی نے پاکستانی سرکاری پاسپورٹ پر ویزا فری سہولت فراہم کی ہے، جبکہ امیگریشن سے متعلق ایک نئی موبائل ایپلی کیشن جنوری کے وسط میں متعارف کرائی جائے گی۔ اس ایپ کے ذریعے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل امیگریشن کلیئرنس حاصل کر سکیں گے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ زمبابوے میں پاکستانی سفیر کے مطابق ایتھوپیا اور زیمبیا کے راستے غیرقانونی طور پر یورپ جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک جعلی فٹبال کلب کے ذریعے کھلاڑیوں کو جاپان بھجوانے کا واقعہ بھی سامنے آیا، جس میں ایک معذور شخص بھی ٹیم کے ہمراہ روانہ ہو گیا۔

Leave a reply