
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کے لیے غیرملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے عمل کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق یکم جنوری سے ہر شہری کی شناخت بائیومیٹرک کے ساتھ ساتھ فیشل ریکگنیشن کے ذریعے بھی لازمی طور پر کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اب کوئی بھی فرد جب منی ایکسچینج سے غیرملکی کرنسی خریدنے یا فروخت کرنے آئے گا تو اس کی تصدیق نادرا کے فیشل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے کی جائے گی، جو بائیومیٹرک نظام سے منسلک ہوگا۔
اس فیصلے کا بنیادی مقصد غیرقانونی کرنسی لین دین کی روک تھام، شفافیت کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیرملکی کرنسی کے تمام لین دین کا مکمل اور مستند ریکارڈ نادرا اور اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ہو۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیے گئے سرکلر میں منی چینجرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام برانچوں میں ہائی ریزولوشن کیمرے نصب کریں اور انہیں نادرا کے سسٹم سے منسلک کریں، تاکہ شناخت کا عمل زیادہ محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس وقت منی چینجرز بائیومیٹرک نظام پر جزوی طور پر عمل کر رہے ہیں۔ موجودہ قواعد کے تحت 2500 ڈالر تک کے لین دین میں شناختی کارڈ لازمی نہیں، جبکہ اس حد سے زائد رقم پر شناختی کارڈ کی کاپی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح 5000 ڈالر سے زیادہ کے لین دین میں رقم کے ماخذ اور مقصد سے متعلق اضافی دستاویزات بھی طلب کی جاتی ہیں۔
نئے ضابطے کے تحت اسٹیٹ بینک چاہتا ہے کہ رقم کی کسی بھی حد کے بغیر ہر قسم کے کرنسی لین دین پر بائیومیٹرک اور فیشل ریکگنیشن دونوں کو لازمی قرار دیا جائے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے غیرملکی کرنسی خریدنے والے افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کی جا رہی ہے، تاہم تکنیکی مسائل کے باعث بعض شہریوں کی تصدیق مکمل نہیں ہو پاتی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ نیا نظام صرف کرنسی خریدنے والوں پر لاگو ہوگا یا فروخت کرنے والوں پر بھی، اور نہ ہی کسی مخصوص رقم کی حد کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایسوسی ایشن جلد اسٹیٹ بینک سے مزید وضاحت طلب کرے گی۔









