سی ڈی ایف نوٹیفکیشن میں تاخیر سے نہ آئینی بحران، نہ انتظامی رکاوٹ

0
111
سی ڈی ایف نوٹیفکیشن میں تاخیر سے نہ آئینی بحران، نہ انتظامی رکاوٹ

پاکستانی فوج نے وضاحت کی ہے کہ حالیہ دفاعی قانون سازی کے باوجود فوج کی قیادت اور کمان میں کوئی رکاوٹ یا خلا موجود نہیں۔ فوج کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پوری اتھارٹی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

پیر کے روز فوج کے زیرِ استعمال ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے نئے عہدے ’’چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF)‘‘ کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے لیے قانون میں کوئی متعین مدت موجود نہیں، اس لیے نوٹیفکیشن میں تاخیر کسی آئینی یا انتظامی بحران کا سبب نہیں بنتی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو حاصل اختیارات برقرار ہیں، اور جیسے ہی نیا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، آرمی چیف کی نئی پانچ سالہ مدت اسی تاریخ سے شروع شمار کی جائے گی۔

دریں اثنا، ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے ’’کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ‘‘ کا نیا منصب متعارف کرایا گیا ہے، جو مستقبل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت کام کرے گا۔ اس عہدے کے تقرر اور مدت میں توسیع کا مکمل اختیار وزیر اعظم کو حاصل ہوگا۔

حکومت کے مطابق نیا دفاعی ڈھانچہ مسلح افواج میں مشترکہ حکمتِ عملی، مربوط منصوبہ بندی اور جدید دفاعی نظام کی طرف اہم پیش رفت ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح کیا کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، کیونکہ نوٹیفکیشن کا عمل جاری ہے اور وزیر اعظم کی وطن واپسی کے بعد مناسب وقت پر یہ جاری کر دیا جائے گا۔

Leave a reply