سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم میں سزائے موت

بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے اہم ترین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سزائے موت سمیت مختلف سنگین سزاؤں کا حکم دیا ہے۔ استغاثہ نے الزام عائد کیا تھا کہ شیخ حسینہ کے دور اقتدار میں ہونے والے کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ اور سابق وزیرِ داخلہ اسدالزّمان خان کمال کو غیر مسلح مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال، مہلک ہتھیاروں کی اجازت دینے اور ریاستی مشینری کو شہریوں کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات میں قصوروار پایا گیا۔ عدالت نے دونوں رہنماؤں کے اثاثے بھی ریاست کے نام منتقل کرنے کا حکم دیا۔
مقدمے کے دوران سابق انسپکٹر جنرل پولیس عبداللہ مامون نے ریاستی گواہ بن کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا، جس کے بعد انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ 2010 میں ٹریبونل کے قیام کے بعد پہلے ایسے ملزم ہیں جنہوں نے ریاستی گواہ بننے کا فیصلہ کیا۔
تین رکنی بینچ نے اپنے 453 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ سابق وزیراعظم مظاہرین کے خلاف بھاری ہتھیاروں اور طاقت کے استعمال کی ذمہ دار تھیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ چھ افراد کو زندہ جلانے کے واقعے میں بھی ان کی ذمہ داری ثابت ہوئی اور اسی بنیاد پر انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔
اسی مقدمے میں سابق وزیر داخلہ کو بھی دو علیحدہ الزامات پر سزائے موت سنائی گئی، جب کہ عبداللہ مامون کو ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور براہِ راست فائرنگ کے استعمال کی روک تھام میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
یہ مقدمہ ملک کے خصوصی ٹریبونل میں چل رہا تھا، اور 450 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کی گئی۔ مقدمے میں تقریباً 80 گواہوں نے بیانات دیے، جن میں 54 وہ افراد شامل تھے جو گزشتہ سال پرتشدد واقعات میں زخمی یا متاثر ہوئے تھے۔ دس ہزار صفحات سے زائد شواہد بھی ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔
78 سالہ شیخ حسینہ یہ مقدمہ غیر حاضری میں بھگت رہی تھیں۔ وہ گزشتہ سال طلبہ مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے بعد مختلف الزامات کا سامنا کر رہی ہیں، جب کہ اگست 2024 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد وہ بھارت میں مقیم ہیں۔ استغاثہ کے مطابق، ان کی منظوری سے اعلیٰ حکام نے غیر مسلح طلبہ کے خلاف کارروائی کی، جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے۔
فیصلے کے اعلان سے قبل ملک بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی تھی۔ عدالت کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور پولیس نے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔









