شوہر کی رہائی کے عوض 80 لاکھ روپے دینے کا انکشاف، این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ درج

0
94
شوہر کی رہائی کے عوض 80 لاکھ روپے دینے کا انکشاف، این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ درج

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے افسران کے خلاف مبینہ طور پر بھاری رشوت وصولی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون نے اپنے زیرِ حراست شوہر کی رہائی کے لیے ایجنسی کے افسران کو 80 لاکھ روپے ادا کیے۔

ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں درج مقدمے میں این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹرز، سینئر افسران اور ان کے مبینہ فرنٹ مینوں کے نام شامل ہیں، جن میں بعض غیرملکی شہری بھی بتائے جاتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ایک سب انسپکٹر نے خاتون کے شوہر پر مبینہ تشدد کی ویڈیو ارسال کی، جس کے بعد خاتون نے شوہر کی رہائی کے بدلے 80 لاکھ روپے ادا کیے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ دیگر 13 غیرملکیوں کی رہائی کے لیے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کیے گئے، جبکہ قانونی کارروائی کو مکمل ظاہر کرنے کے لیے مزید 10 لاکھ روپے لیے گئے۔

ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران حاصل ہونے والی مجموعی 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم افسران اور ان کے فرنٹ مینوں کے درمیان تقسیم کی گئی۔

اسی مقدمے میں حسن امیر، غیرملکی شہری لیو اور ماہی الدین کو بھی افسران کے فرنٹ مین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

مزید براں، اسلام آباد کے سیکٹر ایف-11 میں موجود 15 غیرقانونی کال سینٹرز سے بھی مبینہ طور پر بھتہ وصول کیا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق این سی سی آئی اے کے افسران ان کال سینٹرز سے ماہانہ بنیادوں پر کروڑوں روپے لیتے رہے۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ راولپنڈی میں قائم غیرقانونی کال سینٹرز سے تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ روپے ماہانہ وصول کیے جا رہے تھے، جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر کی ٹیم یہ رقم فرنٹ مینوں کے ذریعے اکٹھی کرتی تھی۔

ایف آئی اے کے مطابق ستمبر 2024 سے اپریل 2025 کے دوران مجموعی طور پر 12 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ ادارے نے ایسے تمام عناصر کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

Leave a reply