
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے، اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس مستقبل کی جنگ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے واضح کیا ہے کہ کمپنی کسی بھی قیمت پر اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔
زکربرگ نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں کہا کہ اگر کچھ سرمایہ کاری غلط جگہ پر بھی ہو جائے تو یہ افسوسناک ہوگا، لیکن اصل خطرہ موقع کھو دینا ہے۔ ان کے مطابق، ٹیکنالوجی کی ترقی میں زیادہ سرمایہ کاری اور تجربات ضروری ہیں، کیونکہ یہی کوششیں اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کی بنیاد بنتی ہیں۔
میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 تک امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز، بنیادی ڈھانچے اور نئی بھرتیوں پر تقریباً 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ زکربرگ نے کہا کہ کمپنی کے لیے سب سے بڑا خطرہ زیادہ خرچ کرنا نہیں بلکہ سست روی اختیار کرنا ہے۔
انہوں نے اپنے حریفوں، اوپن اے آئی اور اینتھروپک، کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چھوٹی کمپنیوں کو سرمایہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، لیکن میٹا کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں۔ اگر عالمی مالی بحران بھی آیا تو کمپنی اپنی تحقیق اور ترقی کے منصوبے جاری رکھ سکتی ہے۔
زکربرگ نے مزید بتایا کہ میٹا نے ایک نئی “سپر انٹیلیجنس لیب” قائم کی ہے، جہاں محققین جدید ترین اے آئی منصوبوں پر بغیر کسی وقت کی پابندی کے کام کر رہے ہیں، تاکہ تحقیق تیز رفتاری سے آگے بڑھے۔
ان کے بقول، مستقبل انہی کمپنیوں کا ہوگا جو آج جراتمندانہ فیصلے کر رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں کامیابی کے لیے خرچ سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔ زکربرگ نے یہ بھی کہا کہ اگر موجودہ اے آئی رجحان کسی ببل کے طور پر سامنے آئے، تب بھی میٹا پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔









