نئے ای چالان نظام کے تحت شہر میں صرف دو دن میں ساڑھے تین کروڑ روپے کے چالان

0
201
نئے ای چالان نظام کے تحت شہر میں صرف دو دن میں ساڑھے تین کروڑ روپے کے چالان

کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے نیا ای چالان نظام عوامی اور ٹریفک حکام دونوں کے لیے ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ صرف دو دن میں شہر بھر میں چھ ہزار سے زائد چالان جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید کئی چالان زیرِ کارروائی ہیں، جن کی مجموعی رقم ساڑھے تین کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق زیادہ تر جرمانے تیز رفتاری، سگنل توڑنے، سیٹ بیلٹ نہ باندھنے اور سیاہ شیشے والی گاڑیوں پر عائد کیے گئے ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے بغیر ہیلمٹ چلانے پر پانچ سو سے زائد چالان کیے گئے ہیں۔

پولیس کی نئی شرح کے مطابق بائیک سوار اگر غلط سمت میں گاڑی چلائیں تو انہیں 25 ہزار روپے، کار چلانے والوں کو 30 ہزار، جیپ والوں کو 50 ہزار اور ٹرک یا ڈمپر ڈرائیورز کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں بائیک کی زیادہ رفتار پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ بھی نافذ ہوگا۔

دوسری جانب شہری یہ سوال کر رہے ہیں کہ کراچی میں جرمانے اتنے زیادہ کیوں ہیں، جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں یہی خلاف ورزیاں کم قیمت پر نمٹ جاتی ہیں۔ لاہور میں موٹر سائیکل کے اوور اسپیڈ پر صرف 200 روپے، کار پر 750 روپے اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل کے لیے 2000 روپے کا چالان ہوتا ہے۔ سگنل توڑنے پر کار یا جیپ کا جرمانہ 500 روپے اور بڑی گاڑیوں کے لیے ایک ہزار روپے تک ہے۔ اسلام آباد میں ای چالان سسٹم نئے کیمروں کی تنصیب کے باعث عارضی طور پر معطل ہے، تاہم کیمروں کے فعال ہونے کے بعد اوور اسپیڈ پر موٹر سائیکل 1000، کار 1500 اور بڑی گاڑی 2500 روپے جرمانہ ادا کرے گی۔

سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے کراچی میں سخت ای چالان نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “جہاں ٹریفک سگنل ہوگا، وہاں ای چالان لازمی ہوگا۔” انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز شہر میں 2600 چالان کیے گئے، جو اتنے بڑے شہر کے لیے بڑی تعداد نہیں۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال میں کراچی کے مختلف علاقوں میں 12 ہزار کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر مقصد صرف نظم و ضبط قائم کرنا ہے تو یہ مثبت قدم ہے، مگر جرمانے اتنے زیادہ نہ ہوں کہ لوگ قانون کے خوف میں مبتلا ہو جائیں۔

Leave a reply