
سابق امریکی بحری افسران کے مطابق چین کا جدید طیارہ بردار جہاز “فوجیان” اب بھی امریکی کیریئر نیمٹس کلاس کے مقابلے میں محدود فضائی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجیان کی فلائٹ ڈیک ترتیب اور لینڈنگ ایریا طیاروں کی ایک ساتھ اڑان اور لینڈنگ کی رفتار محدود کرتی ہے، جس سے آپریشن کے دوران حادثات یا ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سابق کیپٹن کارل شوسٹر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر کیتھ اسٹیورٹ نے سی این این کو بتایا کہ اگرچہ فوجیان پر الیکٹرو میگنیٹک کیٹیپولٹ سسٹم نصب کیا گیا ہے تاکہ طیارے زیادہ ہتھیار اور ایندھن لے کر لانچ ہو سکیں، لیکن جہاز کی ڈیک کی لمبائی اور زاویہ بندی کی وجہ سے طیاروں کی حرکت محدود رہتی ہے۔
اسٹیورٹ نے کہا، “رات یا خراب موسم میں آپریشن انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، اور نئے جہاز کو چلانے کے لیے چینی بحریہ کو عملی تجربے سے سیکھنا پڑے گا، کیونکہ صرف نظریاتی تربیت کافی نہیں ہے۔”
چینی ماہرین نے فوجیان کی کامیاب ٹرائلز کی تعریف کی ہے، لیکن سابق امریکی افسران کا ماننا ہے کہ طیارہ بردار جہاز کی اصل کارکردگی اور افادیت صرف عملی آپریشن کے دوران ہی واضح ہوتی ہے۔
فی الحال، امریکی بحریہ کے پاس 11 فعال کیریئر موجود ہیں جبکہ چین کے پاس دو فعال کیریئر ہیں۔ فوجیان تقریباً 80,000 ٹن وزنی ہے، جو امریکی نیمٹس کلاس کے 97,000 ٹن کیریئر کے قریب ترین ہے۔








