نیویارک کے مئیر کے لیے مسلمان امیدوار ممدانی پر مذہبی بنیاد پر تنقید

نیویارک میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدوار ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے آغاز سے ہی ان کے خلاف مذہبی بنیاد پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ برونکس کی ایک مسجد میں اپنے خطاب کے دوران ممدانی نے کہا کہ انہیں اسلاموفوبیا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور وہ ہر شہری کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ممدانی نے 9/11 کے بعد کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام کو اکثر ’محمد‘ کی وجہ سے تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور ایئرپورٹس پر انہیں غیر ضروری سوالات کے لیے روکا جاتا تھا۔
یہ تنازع اس وقت بڑھا جب سابق گورنر اینڈریو کوومو نے ایک ریڈیو پروگرام میں ممدانی کے بارے میں متنازعہ بیان دیا، جس کے بعد کوومو نے کہا کہ وہ سیاسی تجزیہ کار کے سابقہ بیان کا حوالہ دے رہے تھے۔
ممدانی نے اسرائیل کی موجودہ ریاست کے حق میں بیان دیتے ہوئے یہودی نیویارکرز کے تحفظ کا عہد کیا اور الزام لگانے والے بیانات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے تعصب کو نیویارک کی سیاست کے لیے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔
اگر ممدانی منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ایک ملین سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، جنہیں اکثر اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ محسوس کرنا پڑتا ہے۔
نیویارک میں ارلی ووٹنگ آج سے شروع ہو چکی ہے اور یہ 2 نومبر تک جاری رہے گی۔








