قطر نے واشنگٹن کے امن منصوبے کے بعض نکات پر وضاحت اور مزید مذاکرات کا مطالبہ کردیا

0
93
قطر نے واشنگٹن کے امن منصوبے کے بعض نکات پر وضاحت اور مزید مذاکرات کا مطالبہ کردیا

دوحہ — قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے کئی پہلو واضح ہونے کے متقاضی ہیں اور ان پر مزید بات چیت درکار ہے، خصوصاً غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے معاملے میں۔

شیخ محمد نے اپنے بیان میں بتایا کہ پیر کو جو اصولی فریم ورک پیش کیا گیا وہ ابتدائی نوعیت کا ہے اور اس کی تفصیلات طے کرنے کے لیے فریقین کے درمیان گفت‌وگو ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ سے فوجی انخلا کی شق کی وضاحت درکار ہے اور اس موضوع پر مزید مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ عملدرآمد کے طریقے واضح ہوں۔

قطری وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقین منصوبے کو تعمیری انداز میں دیکھیں گے اور کہا کہ غزہ میں انتظامی امور کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ بات چیت فلسطینی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں ہوگی اور یہ براہِ راست اسرائیل سے مربوط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں جنگ بندی کو ایک واضح شق کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور یہ موقع فریقین کے لیے جنگ ختم کرنے کی جانب ایک قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

الجزیرہ سے گفتگو میں شیخ محمد نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے کی گئی معافی ہمارے لیے کوئی خاص احسان نہیں بلکہ ایک بنیادی حق تھا۔ انہوں نے حماس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قطر کا اولین مقصد جنگ روکنا ہے اور حماس نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منصوبے کا مفصل جائزہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے بقول، ٹرمپ کا ابتدائی پلان جنگ ختم کرنے کے بنیادی مقصد کو پورا کرتا دکھائی دیتا ہے مگر تفصیلات پر بات چیت ضروری ہے۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ غزہ ثالثی اجلاس میں مصر اور ترکی کے حکام بھی شرکت کریں گے اور اگر منصوبہ قابلِ قبول قرار پایا تو عرب اور اسلامی ممالک فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے مختلف طریقہ کار میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور قطر اس راہ کی کوشش کر رہا ہے جو فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

آخر میں شیخ محمد نے کہا کہ پیش رفت تبھی پائیدار ہوگی جب شفاف مذاکرات اور تمام متعلقہ پارٹیوں کی شرکت کے ساتھ شکوک و شبہات دور کیے جائیں گے۔ انہوں نے فریقین سے اپیل کی کہ وہ تعمیری اور نتیجہ خیز مزاکرات کے ذریعے مسئلے کا دیرپا حل تلاش کریں۔

Leave a reply